اِعجاز احمدی — Page 164
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۶۴ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح إِلَيْكَ اَرُدُّ مَحَامِدِي رُدْتُ كُلَّهَا وَمَا أَنَا إِلَّا مِثْلُ ذَرْقِ يُعَفَّرُ میں تیری طرف ان تمام تعریفوں کو رد کرتا ہوں جن کا میں قصد کرتا ہوں اور میں نہیں ہوں مگر ایک سرگین کی طرح جو خاک میں ملایا جاتا ہے وَ قَالُوا عَلَى الْحَسُنَيْنِ فَضَّلَ نَفْسَهُ أَقُولُ نَعَمُ وَاللَّهُ رَبِّي سَيُظْهِرُ اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا وَلَوْ كُنْتُ كَذَّابًا لَمَا كُنتُ بَعْدَهُ كَمِثْلِ يَهُودِى وَ مَنْ يَتَنَصَّرُ اور اگر میں جھوٹا ہوتا تو پھر اس کے بعد ۔ میں ایک یہودی اور مرتد نصرانی کی مانند بھی نہ ہوتا وَلَكِنَّنِي مِنْ أَمْرِ رَبِّي خَلِيفَةٌ مَسِيحٌ سَمِعْتُمْ وَعْدَهُ فَتَفَكَّرُوا مگر میں اپنے خدا کے حکم سے خلیفہ اور مسیح موعود ہوں ۔ اب تم سوچ لو فَمَا شَأْنُ مَوْعُودٍ وَمَا فِيهِ عِنْدَكُمْ مِنَ الْقَوْلِ قَوْلِ نُبِيِّنَا فَتَدَبَّرُوا پس مسیح موعود کی کیا شان ہے اور تمہارے پاس اس کے باب میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا قول ہے؟ حَدِيث صَحِيحٌ عِندَكُمْ تَقْرَءُ وَنَهُ فَلَا تَكْتُمُوا مَا تَعْلَمُونَ وَأَظْهِرُوا تمہارے پاس ایک صحیح حدیث ہے جس کو تم پڑھتے ہو۔ پس جو کچھ تم جانتے ہو اس کو پوشیدہ مت کرو اور ظاہر کرو وَمَنْ يَكْتُمَنَّ شُهَادَةٌ كَانَ عِندَهُ فَسَوْفَ يَرَى تَعْذِيبَ نَارِ تُسَعَرُ اور جو شخص اس گواہی کو پوشیدہ کرے گا جو اس کے پاس ہے۔ پس عنقریب وہ آگ کا عذاب دیکھے گا جو خوب بھڑکائی جائے گی فَلا تَجْعَلُوا كِذَّبًا عَلَيْكُمُ عُقُوبَةً وَدَعُ يَاثَنَاءَ اللهِ قَوْلًا تُزَوِّرُ پس تم جھوٹ کو اپنے لئے وبال کا ذریعہ مت ٹھہراؤ۔ اور اسے ثناء اللہ ! تو جھوٹ بولنا چھوڑ دے (۵۳) تَرَكْتَ طَرِيقَ كِرَامِ قَوْمٍ وَّ خُلْقَهُمْ هَجَوْتَ بِمُدَّ عَامِدًا لتُحَقِّرُ تو نے شریفوں کے خلق اور طریق کو چھوڑ دیا۔ اور تو نے موضع مد میں قصداً ہماری ہجو کی تاتو تحقیر کرے وَشَانَ مَابَيْنَ الْكِرَامِ وَبَيْنَكُمُ وَإِنَّ الْفَتَى يَخْشَى الْحَسِيْبَ وَيَحْذَرُ اور کہاں شریف اور کہاں تم لوگ۔ اور نیک انسان خدا سے ڈرتا ہے اور بدی سے پر ہیز کرتا ہے تَرَكْنَاكَ حَتَّى قِيلَ لَا يَعْرِفُ الْقِلَى فَجِئْتَ خَصِيمًا أَيُّهَا الْمُسْتَكْبَرُ ہم نے تو تجھے چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ تم لوگ کہتے تھے کہ اب کیوں کچھ لکھتے ہیں؟ پس تو خود مقابلہ کے لئے آیا ہے اے متکبر! کچھ آیا