اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 566

اِعجاز احمدی — Page 146

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۴۶ اعجاز احمدی نعیمه نزول مسیح اور نیز یہ بھی خیال آیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے اگر صرف کتاب اعجاز المسیح کی نظیر طلب کی جائے تو وہ اس میں ضرور کہیں گے کہ کیوں کر ثابت ہو کہ ستر دن کے اندر یہ کتاب تالیف کی گئی ہے اور اگر وہ یہ حجت پیش کریں کہ یہ کتاب دو برس میں بنائی گئی ہے اور ہمیں بھی دو برس کی مہلت ملے تو مشکل ہوگا کہ ہم صفائی سے ان کو ستر دن کا ثبوت دے سکیں ۔ ان وجوہات سے مناسب سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک سادہ قصیدہ بنانے کے لئے روح القدس سے مجھے تائید فرما دے جس میں مباحثہ مُد کا ذکر ہو۔ تا اس بات کے سمجھنے کے لئے ۳۶ دقت نہ ہو کہ وہ قصیدہ کتنے دن میں طیار کیا گیا ہے۔ سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہو گئی اور روح القدس سے ایک خارق عادت مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں ہی میں نے ختم کر لیا۔ کاش اگر کوئی اور شغل مجبور نہ کرتا تو وہ قصیدہ ایک دن میں ہی ختم ہو جا تا ۔ کاش اگر چھپنے میں کسی قدر دیر نہ گئی تو نو نومبر ۱۹۰۲ ء تک وہ قصیدہ شائع ہوسکتا تھا۔ یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس کے گواہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں کیونکہ قصیدہ سے خود ثابت ہے کہ یہ اُن کے مباحثہ کے بعد بنایا گیا ہے اور مباحثہ ۲۹ ر اور ۳۰ را کتوبر ۱۹۰۲ء کو ہوا تھا اور ہمارے دوستوں کے واپس آنے پر ۸/ نومبر ۱۹۰۲ء کو اس قصیدہ کا بنانا شروع کیا گیا اور ۱۲ نومبر ۱۹۰۲ء کو معہ اس اردو عبارت کے ختم ہو چکا تھا۔ چونکہ میں یقین دل سے جانتا ہوں کہ خدا کی تائید کا یہ ایک بڑا نشان ہے تا وہ مخالف کو شرمندہ اور لا جواب کرے ۔ اس لئے میں اس نشان کو دس ہزار روپیہ کے انعام کے ساتھ مولوی ثناء اللہ اور اُس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ اگر وہ اسی میعاد میں یعنی پانچ دن میں ایسا قصیدہ معہ اسی قدر اردو مضمون کے جواب کے جو وہ بھی ایک نشان ہے بنا کر شائع کردیں تو میں بلا توقف دیر کا ایک یہ بھی باعث ہوا کہ مجھے منصف صاحب کی عدالت میں تاریخ کے نومبر ۱۹۰۲ ء کو بٹالہ جانا پڑا اصل تالیف کا زمانہ تو محض تین دن تھے اور دو دن باعث حرج اور زائد ہو گئے ۔ منہ