اِعجاز احمدی — Page 147
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۴۷ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح دس ہزار روپیہ اُن کو دے دوں گا۔ چھپوانے کے لئے ایک ہفتہ کی اُن کو اور مہلت دیتا ہوں یہ گل باراں دن ہیں اور دو دن ڈاک کے لئے بھی اُن کا حق ہے۔ پس اگر اس تاریخ سے کہ یہ قصیدہ اور اُردو عبارت اُن کے پاس پہنچے چوواں دن تک اسی قدرا شعار بلیغ فصیح جو اس مقدار اور تعداد سے کم نہ ہوں شائع کر دیں تو میں دس ہزار روپیہ اُن کو انعام دے دوں گا۔ اُن کو اختیار ہو گا کہ مولوی محمد حسین صاحب سے مدد لیں یا کسی اور صاحب سے مدد لے لیں اور نیز اس وجہ سے بھی اُن کو کوشش کرنی چاہیے کہ میرے ایک اشتہار میں پیشگوئی کے طور پر خبر دی گئی ہے کہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک کوئی خارق عادت نشان ظاہر ہوگا۔ اور گو وہ نشان اور صورتوں میں بھی ظاہر ہو گیا ہے لیکن اگر مولوی ثناء اللہ اور دوسرے مخاطبین نے اس میعاد کے اندر اس قصیدہ اور اس اُردو مضمون کا جواب نہ لکھایا نہ لکھوایا تو یہ نشان اُن کے ذریعہ سے پورا ہو جائے گا۔ سو انہیں لازم ہے کہ اگر وہ میرے کاروبار کو انسان کا منصوبہ خیال کرتے ہیں تو مقابلہ کر کے اس نشان کو کسی طرح روک دیں ۔ اور (۳۷ دیکھو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ اکیلے یا دوسروں کی مدد سے میعاد معینہ کے اندر میرے قصیدہ اور اردو عبارت کے مطابق اور ان کی تعداد کے مطابق قصیدہ چھپوا کر شائع کریں گے اور تاریخ وصولی سے بارہ دن کے اندر بذریعہ ڈاک میرے پاس بھیج دیں گے تو صرف میں یہی نہیں کروں گا کہ دس ہزار روپیہ اُن کو انعام دوں گا بلکہ اس غلبہ سے میرا جھوٹا ہونا ثابت ہوگا۔ اس صورت میں چونکہ گالیاں اور تکذیب انتہا تک پہنچ گئی ہے۔ جن کے کاغذات میرے پاس ایک بڑے تھیلہ میں محفوظ ہیں اور یہ لوگ اپنے اشتہارات میں بار بار گذشتہ نشانوں کی تکذیب کرتے اور آئندہ نشان مانگتے ہیں اس لئے ہم یہ نشان ان کو دیتے ہیں ایسا ہی عیسائیوں نے بھی مجھے مخاطب کر کے بار بارلکھا ہے کہ انجیل میں ہے کہ جھوٹے مسیح آئیں گے۔ اور اس طرح پر انہوں نے مجھے جھوٹا مسیح قرار دیا ہے حالانکہ خودان دنوں میں خاص لندن میں عیسائیوں میں سے جھوٹا مسیح پکٹ نام موجود ہے جو خدائی اور میسحیت کا دعویٰ کرتا ہے اور انجیل کی پیشگوئی کو پورا کر رہا ہے لیکن آئندہ اگر کوئی مجھے جھوٹا قرار دینا چاہے تو اُسے لازم ہے کہ میرے نشانوں کا مقابلہ کرے۔ عیسائیوں میں بھی بہت سے مرتد مولوی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ اگر پادری صاحبان اس تکذیب میں بچے ہیں تو وہ ایسا قصیدہ اُن مولویوں سے پانچ دن تک بنوا کر دس ہزار روپیہ مجھ سے لیں اور مشن کے کاموں میں خرچ کریں مگر جو شخص تاریخ مقررہ کے بعد کچھ بکو اس کرے گا یا کوئی تحریر دکھلائے گا اُس کی تحریر کسی گندی نالی میں پھینکنے کے لائق ہوگی۔ منہ