اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 566

اِعجاز احمدی — Page 131

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳۱ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح افسوس کہ سادہ لوح حجرہ نشین مولویوں کی نظر محدود ہے ان کو معلوم نہیں کہ پہلی کتابوں میں اس ساعت کا وعدہ تھا جو طیطوس کے وقت یہودیوں پر وارد ہوئی اور قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ عیسی کی زبان پر اُن پر لعنت پڑی اور عذاب عظیم کے واقعہ کو ساعۃ کے لفظ سے بیان کرنا نہ صرف قرآن شریف کا محاورہ ہے بلکہ یہی محاورہ پہلی آسمانی کتابوں میں پایا جاتا ہے اور بکثرت پایا جاتا ہے۔ پس نہ معلوم ان سادہ لوح مولویوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ساعۃ کا لفظ ہمیشہ قیامت پر ہی بولا جاتا ہے۔ افسوس یہ لوگ حیوانات کی طرح ہو گئے ۔ قدم قدم پر اپنی غلطیوں سے ذلت اٹھاتے ہیں پھر غلطیوں کو نہیں چھوڑتے کیا غلطیوں کی کوئی حد بھی ہے۔ قرآن کے منشا کو ہرگز یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ آسمان پر تو حضرت عیسی کو مع جسم چڑھا دیا مگر جو الزام یہودیوں کا تھا اُس کا کچھ جواب نہ دیا۔ خدا جو فرماتا ہے کہ یہود کہتے تھے اِنا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اور جواب دیتا ہے کہ نہیں بلکہ ہم نے اُس کو اُٹھالیا یہ کس بات کا رد ہے کیا صرف قتل کا۔ سوسنو کہ یہودیوں کا بار بار یہ شور مچانا کہ ہم نے عیسی کو صلیب کے ذریعہ سے مار دیا۔ اُن کا اس سے یہ مطلب تھا کہ وہ ملعون ہے اور اُس کی روح موسیٰ اور آدم کی طرح خدا کی طرف نہیں اٹھائی گئی ۔ پس خدا کا جواب یہ چاہیے تھا کہ نہیں در حقیقت اُس کی روح کا رفع ہوا ۔ جسم کا آسمان پر اُٹھانا یا نہ اُٹھانا متنازعہ فیہ امر نہ تھا۔ پس نعوذ باللہ خدا کی یہ خوب سمجھ ہے کہ انکار تو روح کے رفع سے ہے جو خدا کی طرف ہوتا ہے مگر خدا اس اعتراض کا یہ جواب دیتا ہے کہ میں نے عیسی کو زندہ بجسم عنصری دوسرے آسمان پر بٹھا دیا۔ خوب جواب ہے اور ابھی مرنا اور قبض روح ہونا باقی ہے۔ خدا جانے بعد اس کے رفع روحانی ہو یا نہ ہو جو اصل جھگڑے کی بات ہے۔ ایسا ہی یہ لوگ عقل کے پورے میری بعض پیشگوئیوں کا جھوٹا نکلنا اپنے ہی دل سے فرض کر کے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ جب بعض پیشگوئیاں جھوٹی ہیں یا اجتہادی غلطی ہے تو پھر مسیحیت کے دعوی کا کیا اعتبار شاید وہ بھی غلط ہو۔ اس کا اول جواب تو یہی ہے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ اور مولوی ثناء اللہ نے موضع مد میں بحث کے وقت یہی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں اس لئے ہم اُن کو ا النساء : ۱۵۸