اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 566

اِعجاز احمدی — Page 127

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۲۷ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح جن کی درایت عمدہ نہیں تھی ۔ عیسائیوں کے اقوال سن کر جوار دگر درہتے تھے پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسی آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ابو ہریرہ جو غیبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا لیکن جب حضرت ابو بکر نے جن کو خدا نے علم قرآن عطا کیا تھا یہ آیت پڑھی تو سب صحابہ پر موت جمیع انبیاء ثابت ہوگئی اور وہ اس آیت سے بہت خوش ہوئے اور اُن کا وہ صدمہ جو اُن کے پیارے نبی کی موت کا اُن کے دل پر تھا جاتا رہا اور مدینہ کی گلیوں کوچوں میں یہ آیت پڑھتے پھرے۔ اسی تقریب پر 199 حسان بن ثابت نے مرثیہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں یہ شعر بھی بنائے - شعر كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ یعنی تو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری آنکھوں کی پتلی تھا۔ میں تو تیری جدائی سے اندھا ہو گیا اب جو چاہے مرے عیسی ہو یا موسیٰ مجھے تو تیری ہی موت کا دھڑ کا تھا یعنی تیرے مرنے کے ساتھ ہم نے یقین کر لیا کہ دوسرے تمام نبی مر گئے ہمیں اُن کی کچھ پروا نہیں ۔ مصرعہ عجب تھا عشق اس دل میں محبت ہو تو ایسی ہو پھر آپ لوگ خدا تعالیٰ کو اس طرح پر جھوٹا قرار دیتے ہیں کہ خدا تو کہتا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد میسٹی اور اُس کی ماں کو ہم نے ایک ٹیلہ پر جگہ دی جس میں صاف پانی بہتا تھا یعنی چشمے جاری تھے بہت آرام کی جگہ تھی اور جنت نظیر تھی جیسا کہ فرماتا ہے وَ أَوَيْنَهُمَا إِلى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِینِ لا یعنی ہم نے واقعہ صلیب کے بعد جو ایک بڑی مصیبت تھی عیسی اور اُس کی ماں کو ایک بڑے ٹیلہ پر جگہ دی جو بڑے آرام کی جگہ اور پانی خوشگوار تھا یعنی خطہ کشمیر ۔ اب اگر آپ لوگوں کو عربی سے کچھ بھی مس ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اوی کا لفظ اسی موقعہ پر آتا ہے کہ جب کسی مصیبت پیش آمدہ سے بچا کر پناہ دی جاتی ہے یہی محاورہ تمام قرآن شریف میں اور تمام اقوال عرب میں اور احادیث میں موجود ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام سے ثابت ہے کہ ل المؤمنون : ۵۱