اِعجاز احمدی — Page 114
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۱۴ اعجاز احمدی ضمیمه نزول مسیح کی طرح یقین بٹھا دیا گیا تب میں نے یہ پیغام لوگوں کو سنا دیا یہ خدا کی حکمت عملی میری سچائی کی ایک دلیل تھی اور میری سادگی اور عدم بناوٹ پر ایک نشان تھا۔ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور انسانی منصوبہ اس کی جڑ ہوتی تو میں براہین احمدیہ کے وقت میں ہی یہ دعوی کرتا کہ میں مسیح موعود ہوں مگر خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے۔ یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی ورنہ میرے مخالف مجھے بتلا دیں کہ میں نے باوجود یکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا بارہ برس تک یہ دعوی کیوں نہ کیا اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔ کیا یہ امر قابل غور نہیں جو ظہور میں آیا۔ کیا یہ طریق بے ایمانی نہیں کہ براہین احمدیہ کی اس عبارت کو تو پیش کرتے ہیں جہاں میں نے معمولی اور رسمی عقیدہ کی رو سے مسیح کی آمد ثانی کا ذکر کیا ہے اور یہ پیش نہیں کرتے کہ اسی براہین احمدیہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی موجود ہے۔ یہ ایک لطیف استدلال ہے جو خدا نے میرے لئے براہین احمدیہ میں پہلے سے تیار کر رکھا ہے۔ ایک دشمن بھی گواہی دے سکتا ہے کہ براہین احمدیہ کے وقت میں میں اس سے بے خبر تھا کہ میں مسیح موعود ہوں تبھی تو میں نے اس وقت یہ دعوئی نہ کیا ۔ پس وہ الہامات جو میری بے خبری کے زمانہ میں مجھے مسیح موعود قرار دیتے ہیں ان کی نسبت کیونکر شک ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کا افترا ہیں کیونکہ اگر وہ میرا افترا ہوتے تو میں اسی براہین میں اُن سے فائدہ اٹھاتا اور اپنا دعوی پیش کرتا اور کیونکر ممکن تھا کہ میں اسی براہین میں یہ بھی لکھ دیتا کہ عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ ان دونوں متناقض مضمونوں کا ایک ہی کتاب میں جمع ہونا اور میرا اُس وقت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرنا ایک منصف حج کو اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرتا ہے کہ در حقیقت میرے دل کو اس وحی الہی کی طرف سے غفلت رہی جو میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں براہین احمدیہ میں موجود تھی اس لئے میں نے ان متناقض باتوں کو براہین میں جمع کر دیا۔ اگر براہین احمدیہ میں فقط یہ ذکر ہوتا کہ وہی عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور میرے مسیح موعود ہونے کی نسبت کچھ ذکر نہ ہوتا تو البتہ ایک جلد باز کسی قدر اس کلام سے فائدہ