حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 494

حجة اللہ — Page 244

روحانی خزائن جلد ۱۲ فما ۲۴۴ حجة الله (91) أتحسب أن القول قول الأجانب وقد صُبَّ مِـن عـيـنـى كـمـاء مُدَغُفِقِ کیا تو گمان کرتا ہے کہ یہ قول غیروں کا قول ہے حالانکہ یہ میرے چشمہ سے پانی ٹپکنے والے کی طرح گرایا گیا ہے۔ هی إلا كلمة قيل مثلها فقالوا أعانَ عليه قومٌ كمُشْفِقِ پس یہ تو ایسا کلمہ ہے کہ پہلے ایسا کہا گیا ہے اور لوگوں نے کہا کہ اس کی دوسروں نے مدد کی ہے فَفَكِّرُ أَتَعلَمُ مُنشئًا لى كتَمُتُه فيملوا * القصائد لى بحِجرِ التأبقِ پس فکر کر کیا ایس منشی تجھے معلوم ہے جو میں نے چھپا رکھا ہے پس وہ میرے لیے پوشیدہ بیٹھ کر قصیدہ لکھتا ہے أتنحتُ كذبا ليس عندک شاهد عليه وتنبح كالكلاب وتَزُعَقِ کیا تو ایسا جھوٹ تراشتا ہے کہ اس پر تیرے پاس کوئی گواہ نہیں اور کتوں کی طرح بھونکتا اور فریاد کرتا ہے رضيت بحكاكات إبليس شقوةً وآثرت سبل الغى يا أيها الشقى شیطانی وساوس کے ساتھ تو راضی ہو گیا اور گمراہی کی راہیں اے شقی تو نے اختیار کیں أتنكر آياتي وقد شاهدتها أتُعرض عن حق مبين مُزَوَّقِ کیا تو دیدہ و دانستہ میرے نشانوں سے اعراض کرتا ہے کیا تو کھلے کھلے اور آراستہ حق سے انکار کرتا ہے وقد مات "آتم " عمك المتنصّرُ وقد حق أن تُمحى لحاكم وتُخلق آتھم تیرا چچا نصرانی مر گیا اور واجب ہوا کہ تمہاری داڑھیاں نابود کی جائیں اور منڈائی جائیں رأيتم جوازيكم من الله ربِّنا ومتم كموت المفسد المتخلّق لو تم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنی سزائیں دیکھ لیں اور تم اس طرح مر گئے جس طرح مفسد دروغ گو مرتا ہے وقد قطع ربّى أنف الجمع كلّهم وأخزى العِدا وأبادَ كُلا بمأزق اور میرے خدا نے تمام مخالفوں کی ناک کاٹ دی اور دشمنوں کو رسوا کیا اور سب کو میدان میں ہلاک کر دیا تكنف قلبك صدا ظلماتِ الشقا فما إنْ أَرَى فيك الهدايةَ تُشرِقِ تیرے دل پر انکار شقاوت محیط ہو گیا ہے پس میں نہیں دیکھتا کہ ہدایت تجھ میں چمکے وقد ضاع ما عُلّمتَ إن كنتَ عالمًا كزُبُرٍ إذا حُمِلتُ على ظهرِ زِهْلِقِ | اگر تو عالم تھا تو تیرا سب " ، علم برباد ہو گیا ان کتابوں کی طرح جبکہ گدھے پر لادی جائیں أراك ومن ضاهاک رَبِّرَبَ جهلةٍ تلا بعضُكم بعضا كأحمق أنُزَقِ میں تجھے اور تیرے امثال کو جاہلوں کا ریوڑ دیکھتا ہوں بعض بعض کے پیچھے لگے جیسے نادان شتاب کار اور يبدو انه سهو والصحيح ” فیملی“ ۔ (ناشر)