حجة اللہ — Page 230
۲۳۰ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ۸۲) وقالوا له يا شيخ وقتك قد مضى فأحسِنُ إلينا بالسكوت وأطرق اور لوگوں نے کہا کہ اے شیخ تیرا وقت گزر گیا پس اپنی خاموشی ، ہم پر احسان ولما أصرّ على القيام وما نآى فقيل على عقبيك إنك تَدمُقِ پس جب اپنے قیام پر اصرار کیا اور دور نہ ہوا پس کہا گیا کہ پیچھے ہٹ جا تو بے اجازت کھڑا ہوتا ہے فما طاوع الأحرار حمقا وما انتهى فقالوا إِذَا صَهُ صَهُ وَلَا تَكُ مُقلِقٍ | پس حماقت کی وجہ سے اس نے اچھوں کی بات کو نہ مانا اور باز نہ آیا پس لوگوں نے کہا کہ چپ رہ چپ رہ اور بے آرام نہ کر فلما أبى فنفاه صدرُ المُنتدى بزجر يليق بذى مـكـائد أفسَقِ پس جبکہ سرکشی کی تو میر مجلس نے اس کو نکال دیا اور اسے جھڑ کی کے ساتھ نکالا جو فاسقوں کا علاج ہے أَهَانَ المُهَيمنُ مَن أراد إهانتي فرَمِّق وميضَ الحق إن كنت ترمق خدا نے اس شخص کو ذلیل کیا جو میری ذلت چاہتا تھا پس حق کی چمک کو دیکھ اگر دیکھ سکتا ہے يد الله تحمى نفسَ مَن هو صادق وإن المزوّر يضمحل ويزهَقِ خدا کا ہاتھ صادق کی حمایت کرتا ہے اور جھوٹا مضمحل ہو جاتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے وتبقى رجال الله عند نهاير على النار تفنى الكاذبون كزيبق اور خدا کے مرد مصیبتوں کے وقت باقی رہتے ہیں اور جھوٹے آگ پر پارہ کی طرح فنا ہو جاتے ہیں إذا ما بدث نار من الله فتنةً فكل كذوب لا محالة يُحْرَقِ جس وقت خدا کی آگ آشکارا ہوتی ہے پس ہر ایک جھوٹا جلایا جاتا ہے ومَن يُحرق الصدِّيقَ حِبَّ مهيمن فطُوبى لمن يُصلى بنار التوَمُّقِ اور صدیق کو جو خدا کا دوست ہے کوئی جلا نہیں سکتا پس مبارک وہ جو دوستی کی آگ سے جلتا ہے ومــن كــذب الـصـديـق حبنًا وَفِرْيَةً فيَسفِيه إعصار ويُخزى ويَسفُقِ جو شخص خباثت اور جھوٹ کی راہ سے صدیق کی توہین کرے یا ایک گدا کی ہوا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ور ا کرتی ہے اس کےمنہ پرطمانچہ مارتا ہے ومهما يكن حقٌّ من الله وَاضِحٌ وإن ردَّها زُمُرٌ مِّنَ النَّاس يبرُقِ جس جگہ حق واضح اگر چہ لوگ اس کو رد کریں تب بھی وہ چمک اٹھتا ہے ومن كان مُفتريًا يُضَاع بسرعةٍ ويهلک کذاب بسم التَّخَلُّقِ اور مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور کاذب جھوٹ کے زہر سے مرجاتا ہے اور ہو