حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 494

حجة اللہ — Page 229

۲۲۹ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله وقد جَدَّ شيخُ المبطلين لمنعهم فهل عند شوقٍ غالبِ مِن مُعوّق (۸۱) اور جب اور جب اور شیخ بٹالوی نے ان کے منع کرنے کے لئے کوشش کی مگر شائق کو کون روک سکتا تسلتُ عمايات الهنود بسمعها وما قلَّ بـخـلُ الشيخ فانظُرُ وعَمْقِ ہندوؤں کے کورانہ خیال اس مضمون سے دور ہو گئے اور شیخ بطالوی کا بخل دور نہ ہوا پس سوچ اور غور کر ففاضت دموعى من تذكر بخله أهذا هو الرجل الذي كان يتـقـى پس مجھے اس کے بخل کا خیال کر کے رونا آیا کیا یہ وہی شخص ہے جو پرہیز گاری دکھلاتا تھا إذا قام للإسماع شيخُ "بطالة" ففرّتْ جموع كارهين كجورَقِ سنانے کے لئے شیخ بٹالوی اٹھا تو اکثر لوگ کراہت کر کے شتر مرغ کی طرح بھاگے ولما تلا الشيخ المزوّر ما تلا فكان الأناس يرونه كيف ينطق شیخ دروغ آرا نے پڑھا جو پڑھا پس لوگ اس کو دیکھتے تھے کہ کیونکر پڑھتا ہے وكان يَعُتُ الكلِمَ مِن غير حاجة ويأتى بألفاظ كصخرٍ مُدَمُلَقِ اور وہ کلموں کو بغیر حاجت کے بار بار پڑھتا تھا اور بڑے بھاری پتھر کی طرح الفاظ لاتا تھا ومن سمع قولى قبله ظنَّ أنّه لدى ثمرات العَذق نافضُ عَسُقِ اور جو شخص میر اقول اس سے پہلے سن چکا تھا وہ خیال کرتا تھا کہ کھجورکے پھلوں کے ہوتے ہوئے ایک کڑوے درخت کا پھل توڑ رہا ہے۔ وقال أرى الإســلام كـالـجـو خـاليـا ومـا إن أرى الآيــات مــن صـالـح تـقـى اور کہا کہ میں اسلام کو پول کی طرح خالی دیکھتا ہوں اور کوئی صاحب کرامت اس میں پایا نہیں جاتا فصال على الإسلام في جمع العدا وقد كان يعلم أنه يتخلق پس دشمنوں کے مجمع میں اسلام پر حملہ کیا اور وہ خوب جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بولتا تھا وحمد كبراء الهنود ودينهم وداهنَ مِن وجه النفاق كمُنفِقِ اور ہندوؤں کے بزرگوں اور ان کے دین کی تعریف کی اور محتاجوں کی طرح نفاق سے مداہنہ کیا أراد ليُخزِى ديننا من عداوتى فأخزاه ربُّ قادرٌ حافِظ الحق اس نے ارادہ کیا کہ میری عداوت سے دین کو رسوا کرے سو خدائے قادر حق کے محافظ نے اس کو ہی رسوا کر دیا فلما رأوا سِيَرَ الغراب بنطقه فقالوا لک الويلات إنك تنعِق پس جب لوگوں نے کوے کی سیرت اس کے نطق میں دیکھی تو انہوں نے کہا تجھ پر واویلا ٹو تو کاں کاں کر رہا ہے