حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 494

حجة اللہ — Page 225

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۵ حجة الله ولِلَّهِ آيات لتأييد دعوتی فانش به اظر المتعمق اور میری تائید دعوی میں خدا کے لئے نشان ہیں پس اس آنکھ سے دیکھ جوسو چنے والی اور غور کر کے دیکھا کرتی ہے ألا رُبَّ يوم قد بدت فيه آينا ولا سيمايوم علافیه منطقی خبر دار ہو بہت سے ایسے دن ہیں جن میں ہماری نشانیاں ظاہر ہوئیں بالخصوص وہ دن جس دن میری تقریر غالب آئی إذا قام عبد الله عبـد كـريـمنـا وكـان بـحســن الـلـحـن يـتـلــو ويبــــق اور جس وقت مولوی عبد الکریم صاحب کھڑے ہوئے اور حسن آواز سے پڑھتے اور ترجمیع کے ساتھ آواز کرتے تھے فكل من الحصار عند بيانه كمثل عُطاشى أهرعوا أو كأعْشُقِ پس تمام حاضرین اس کے بیان کے وقت پیاسوں کی طرح یا عاشقوں کی طرح دوڑے وقاموا بـجـذبـات النشاط كأنهم تعاطوا سُلافًا مِن رحيق مُزَهُزِقٍ اور نشاط کے جذبوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے گویا کہ انہوں نے وہ شراب لے لی جو اس شراب کی قسم میں سے تھی جو رقص آور ہو ومالت خواطــرهـم إلـــيـــه لــــذاذةً كمثل جياع مُرفق اور ان کے دل اس کی طرف لذت کے ساتھ ایسے میل کر گئے جیسا کہ بھوکے نرم چپاتیوں کی طرف فأخرج حيواتِ العدا من جحورها وأنزَلَ عُصْما من جبال التعرُّق پس اس نے دشمنوں کے سانپوں کو ان کے سوراخوں سے باہر نکالا اور پہاڑی بکروں کو بخل کے پہاڑوں سے نیچے اتارا عند خبز وكانوا بهمس يحمدون كأنه حفيف طيور أو صداء التمـ وہ اور نرم آواز سے تعریف کرتے تھے گویا حداهم فلم يترك بها قلبَ سَامِعِ ولا أُذنًا إلا حدا مثلَ غَيْهَقِ ان کو خوش آوازی سے جلایا اور کسی دل کو نہ چھوڑا اور نہ کسی کان کو مگر اونٹ کی طرح اس کو چلایا كأن قلوب الناس عند كلامه على قلبه لُفَّتُ كتبت مُعَلَّقِ گویا لوگوں کے دل اس کے کلام کے وقت اس کے دل پر لیٹے گئے جیسا کہ ایک ہوٹی درخت پر پالتی جاتی ہے وكان كسِمُطَى لُؤلوء وزبرجد وكان المعاني فيه كالدرر تبرق اور موتی اور زبرجد کی دولڑیوں کی طرح وہ مضمون تھا اور معانی اس میں موتیوں کی طرح چپکتے تھے إليه صبَتْ رَغَبًا قلوبُ أولى النُّهى إذا ما رأوا دُرَرًا وسِمُطَ التزيق عقلمندوں کے دل اس کی طرف رغبت سے جھک گئے جس وقت انہوں نے موتی دیکھے اور زینت کی لڑی دیکھی پروں کی بلکی آواز تھی جب جانور صف باندھ کر اڑے ہیں یا زبان کےساتھ بقیہ نذر کو چائے کی آواز تھی