حجة اللہ — Page 221
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۱ حجة الله قَصِيدَةٌ مِّنَ المُؤلّف إنِّي صدوق لح متردمُ سَمَّ مُـعـاداتـي وسـلـمـى أسـلــــم میں صادق اور مصلح ہوں اور میری دشمنی زہر اور میری صلح سلامتی ہے میں باغ ہدایت إنى أنا البستان بستان الهدى تأتى إلى العين لا تتصــــرم ہوں میری طرف وہ چشمہ آتا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوتا روحي لتقديس العلى حمامة أو عندليب غارة متـــــــرنـم میری روح خدا کی تقدیس کے لئے ایک کبوتر ہے یا بلبل ہے جو خوش آوازی سے بول رہی ہے ماجئتكم في غير وقت عابقا قد جئتكـم والـوقـت لـيــل مـظـلـم میں تمہارے پاس بے وقت نہیں آیا میں اس وقت آیا کہ ایک اندھیری رات تھی صارت بلاد الدين من جدبِ عتا أَقْوَى وأقفَر بعد روض تعلَمُ دین کی ولایت باعث قحط کے جو غالب آگیا خالی ہو گئی بعد اس کے جو وہ ایک باغ کی طرح تھی هل بقى قوم خادمون لديننا أم هل رأيت الدين كيف يُحطَّمُ کیا وہ قوم باقی ہے جو ہمارے دین کی خدمت کریں اور کیا تو نے نہیں دیکھا کہ دین کو کس طرح مسمار کیا جاتا ہے فالله أرسلني لأحيى دينه حق فهل مـــن راشـد يـسـتــــــــــــم سوخدا نے مجھے بھیجا تا کہ میں اس کے دین کو زندہ کروں یہ سچ ہے پس کیا کوئی ہے جو اطاعت کرے جهد المخالف باطل في أمرنا سيف من الـــــــرحمــن لا يتثلم مخالف کی کوشش ہمارے امر میں باطل ہے یہ خدا کی تلوار ہے جس میں رخنہ نہیں ہو سکتا في وجهنانور المهيمن لائح إن كان فيكـم نــاظـــــر متوسم ہمارے منہ میں خدا تعالیٰ کا نور واضح اگر کوئی تم میں دیکھنے والا اليوم يُنقَض كلّ خيط مكائد لين سحيلٌ أو شديد مُبْرَم آج ہر ایک مکر کا تا گا توڑ دیا جائے گا نرم اک تارہ ہو یا سخت دو تارہ ہو من كان صَوَّالًا فيُقطَع عِرْقهُ يرديه عالية القنـا أو لَهُذَمُ جو شخص حملہ آور ہو پس اس کی رگ کاٹ دی جائے گی اور نیزہ کا اوپر کا سرایا نیچے کا سر اس کو ہلاک کر دے گا الله الرنا وكفل أمرنا فالقل عند الفتن لا يتجَمُجَمُ خدا نے ہمیں چن لیا اور ہمارے کام کا متکفل ہو گیا پس دل فتنوں کے وقت متردد نہیں ہوتا ہے ہو