حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 494

حجة اللہ — Page 202

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰۲ حجة الله (۵۴) وأئمة العدوان بيد أني كنتُ أظن أنهم يتعلقون بأهداب صالحٍ، ويُحسبون مِن وُلْدِه مع امام ہیں۔ مگر میں یہ خیال کرتا تھا کہ وہ لوگ ایک صالح کے دامن سے وابستہ ہیں ۔ اور اس کی اولاد میں سے شمار کئے جاتے كونهم كمثل طالح ، فدرأتُ السيئات بالحسنات ونافستُ في المصافاة ۔ وكنتُ أصبر ہیں باوجود یکہ وہ ایک طالح کی طرح ہیں۔ پس میں نے بدی کا نیکی کے ساتھ بدلہ دیا اور دوستی میں رغبت کی اور میں ان علـى مـا آذونـي بـالجور والجفاء ، وأرجو أنهم ينتهون من الغلواء ، حتى إذا بلغ شرّهم إلى کے جور و جفا پر صبر کرتارہا اور امید رکھتا تھا کہ وہ اپنے تجاوز سے باز آ جائیں گے یہاں تک کہ جب انکی شر کمال تک پہنچ گئی الانتهاء ، وما انتهوا من النباح والعواء ، فعرفت أنهم المردودون المخذولون، والأشقياء | اور بکو اس سے باز نہ آئے پس میں نے جان لیا کہ وہ مردود اور مخذول ہیں۔ اور بد بخت اور محروم ہیں پس اس وقت میں المحرومون فهناك أردت أن أستفلّ غَرُبَهم، ونذيقهم حربهم، ولا تجاوز في قولنا نے ارادہ کیا کہ انکی تیزی کو دور کروں ۔ اور ان کی لڑائی کا مزہ انہیں چکھاؤں۔ اور ہم اپنی بات میں دیانت سے آگے قدم نہیں حد الديانة، بل نردّ إليهم كلما تهم كرة الأمانة۔ رکھتے۔ بلکہ ہم انکے کلمات امانت کی طرح ان کی طرف رد کرتے ہیں۔ أيها الغوى المسمّى بعبد الجبار، لم لا تخشى قهر القهار ؟ أتتكبر بلحية كثّة، أو مشيخة مجتثّة؟ اے گمراہ عبدالجبار نام تو خدا کے قہر سے کیوں نہیں ڈرتا کیا تو گھن دار داڑھی کے ساتھ تکبر کرتا ہے یا تیرا مشیخت پر ناز ہے کیا أتخفى نفسك كالنساء ، وتُغرى علينا جَرُوك للإيذاء ؟ أيستسنى الناس بهذا الكيد شأنك، أو | تو اپنے تئیں عورتوں کی طرح چھپاتا ہے اور اپنے جزو کو ہمارے پر چھوڑتا ہے۔ کیا اس مکر کے ساتھ لوگ تیری شان بلند خیال کریں گے يستغزرون عرفانک؟ كلا۔ بل هو سبب لهوانك، وعلة موجبة لخسرانک تحسب نفسك من یا تیری معرفت بہت خیال کی جائیگی ہرگز نہیں بلکہ وہ تیری ذلت کا موجب ہے اور تیرے خسران کا سبب ہے اپنے تئیں تو أخائر الصلحاء ، وتسلك مسلك الأشقياء والسفهاء - تعيش عيشة الفاسقين، ثم ترجو | بہت نیک آدمیوں میں سے خیال کرتا ہے اور بد بختوں کے طریق پر چلتا ہے فاسقوں کی طرح تو زندگی بسر کرتا ہے پھر آرزو رکھتا ہے