حجة اللہ — Page 195
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۹۵ حجة الله و تظاهر آرائكم وقد رأيتم مبلغ عـلـمـكـم وعلم فضلائكم، وشاهدتم نقص فهمكم ۴۷ راؤں کے اتفاق نے تمہیں مغرور کیا ہے اور تم نے اپنے علم اور اپنے فاضلوں کے علم کا اندازہ بھی دیکھ لیا اور تم نے اپنے بنقص ودهائكم، وآنستم كيف وليتم مدبرين۔ عقل اور فہم کا مشاہدہ بھی کرلیا اور تم نے دیکھ لیا کہ کس طرح تم نے شکست کھائی۔ وأيها النجفي لم تؤذيني وقد رأيت آياتي وشاهدت حججى وبيناتي؟ ثم أبيتَ وهذيتَ | اور اسے مجبھی تو مجھے کیوں دکھ دیتا ہے اور تو میرے نشانوں کو دیکھ چکا ہے اور میری برا مہین کوسن چکا ہے۔ پھر تو نے نافرمانی کی اور فقاتلك الله كيف هذيت، وقد رأيت آثار الصادقين ۔ أيها الثعلب أإنك تخوّفنى وتُغرى | بکواس کی پس خدا تجھے ہلاک کرے یہ کیسی بکواس تو نے کی حالانکہ صادقوں کے نشان تو نے دیکھ لئے۔ اے لومڑی کیا تو مجھے ڈراتا على هذه الدولة، وما رأتُ منا الدولة إلا الإخلاص والنصرة، والله يحفظ ۔ مكائد عباده من ہے اور اس گورنمنٹ کو مجھ پر برانگیختہ کرتا ہے۔ اور اس گورنمنٹ نے ہم سے بجز، اخلاص اور نصرت کے کچھ نہیں دیکھا اور خدا تعالیٰ الخبيثين ۔ ثم إنك اخترت فى كل أمرٍ طريق الدجل والضيم ورعدتَ كالجهام لا كالغيم خبیثوں کے فریبوں سے اپنے بندوں کونگہ رکھتا ہے۔ پھر تو نے ہر یک امر میں دجل اور ظلم کا طریق اختیار کیا ہے۔ اور اس بادل کی طرح ونطقت كالمعارف العرفاء مع البعد والريم، فما هذا أصَحِبُتَ إبليس ذاتَ العُوَيم، أو هذا | تو نے گرج دکھلائی جس میں پانی نہ ہو۔ اور تو نے روشناسوں کی طرح کلام کی حالانکہ تو دور اور مجبور ہے۔ پس یہ کیا طریق ہے کیا تو چند من سير المتشيّعين؟ وخاطبتني في رسالاتك، وقلت إنِّي جُبتُ البلاد لمباراتك، وما هذا | روز ابلیس کی شاگردی میں رہا ہے یا یہ شیعوں کی عادت ہی ہوتی ہے اور تو نے اپنے خطوں میں مجھ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ہم نے إلا زور مبين بل الحق أنك سافرت لهوى من الأهواء ، وسمعت الريف، تیرے مباحثہ کیلئے دور دراز سفر طے کیا ہے یہ سراسر جھوٹھ ہے بلکہ حق بات یہ ہے کہ بعض نفسانی خواہشوں کیلئے تو نے سفر کیا ہے فطمعت الرغيف كالفقراء ، ووردت هذه الديار من برهة طويلة، لا من مدة اور اس ملک کی تو نے حالت اچھی سنی پس روٹیوں کی طمع تجھے دامنگیر ہوئی اور تو ایک مدت دراز سے اس ملک میں ہے نہ کہ تھوڑے