حجة اللہ — Page 187
۱۸۷ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله السب والشتم وجاوز الحد في الخباثة ۔ فلما دعوتُ عليه وتضرّعتُ في حضرة ٣٩ حد سے بڑھ گیا تھا۔ پس جبکہ میں نے اس پر بددعا کی اور جناب باری میں تضرع کیا اور پوری توجہ کے ساتھ البارى، وأقبـلـت كـل الإقبال على جباري، سُمِع دعائى فى الحضرة، ومَنْ على ربّي حضرت احدیت میں متوجہ ہوا۔ پس جناب الہی میں میری دعاسنی گئی اور خدا نے رحمت اور مدد کے ساتھ میرے پر بالرحمة والنصرة، وبشرني ربي بأنه يموت في ست سنة، في يوم دنا من يوم العيد بلا احسان کیا اور میرے خدا نے مجھے خوشخبری دی کہ وہ چھ برس کے عرصہ میں مرجائے گا اور اس دن مرے گا جو عید کے تفاوة ، وأومـاً إلى ليلة يوم الأحد، وإلى أنه يُقتل بحكم الربّ الصمد، ولا يموت بعد کا دن ہوگا اور اتوار کی رات کا اشارہ کیا۔ اور یہ کہ بحکم خدا تعالیٰ وہ قتل کیا جائے گا اور ہیبت ناک قتل کے ساتھ بمرضة، ويموت بقتل مهيب مع حسرة ، ليكون آية للطالبين ۔ فلما انقضى من الميعاد مرے گا اور حسرت کے ساتھ اور کوئی بیماری نہیں ہوگی تاکہ طالبوں کیلئے نشان ہو ۔ پس جب کہ میعاد قریب پانچ برس قريبا من خمسة أعوام، واطمأن الهالك وزعم أن النبأ كان كأوهام، نزل أمر الله عليه کے گزرگئی اور مرنے والا مطمئن ہو گیا کہ پیشگوئی ایک وہم تھا خدا کا امر اس پر نازل ہوا اور فتح عظیم ظاہر کی ۔ پس میں وأتى بفتح مبين۔ ففرحت فرحة المطلق من الاسار، وهزّة الناجي من حفرة التبار۔ وقبل ایسا خوش ہوا جیسا کہ ایک قیدی چھوٹ کر خوش ہوتا ہے اور جیسا کہ ایک شخص ہلاکت کے گڑھے سے نجات پاتا ہے أن يأتيـنـي أحـد بفص خبر وفاته، بشرني ربي بمماته، وكنتُ أفكر في هذه البشارات اور قبل اس کے جو کوئی شخص اس کی وفات کی خبر میرے پاس لائے میرے خدا نے اس کی موت کے بارے میں مجھے فإذا عبد الله جاء بالتبشيرات، وحصحص الحق وزهق الباطل وقُضِيَ الأمر من ربّ خوشخبری دی اور میں ان بشارتوں کو سوچ رہا تھا اتنے میں عبداللہ بشارت لے کر آیا۔ اور ظاہر ہو گیا حق اور نا بود ہو گیا الكائنات، وفـرح الـمـؤمـنـون كما وعد من قبل واسود وجوه أهل المعادات، وظهر باطل اور خدا نے فیصلہ کر دیا اور مومن خوش ہوگئے جیسا کہ وعدہ دیا گیا تھا اور دشمنوں کے مونہہ کالے ہو گئے اور خدا کا امر