حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 494

حجة اللہ — Page 169

۱۶۹ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله رائعة فيها آية فصاحةٍ مُعجبة، فكأنكم ما قرأتموها ، وظهرت فى ندوة المذاهب آیات ۲۱ پڑھا جن کی بلاغت تعجب میں ڈالنے والی تھی۔ پس گویا تم نے انکو نہیں پڑھا اور جلسہ مذاہب میں کئی نشان ظاہر ہوئے سو تم نے ان کو فنبذتموها، وقد كانت معها أنباء الغيب فما باليتموها، وكأيّنُ من آيات شاهدتموها، فكأنكم ما | ہاتھ سے پھینک دیا اوران نشانوں کے ساتھ غیب کی خبریں تھیں سو تم نے کچھ پروا نہ کی اور کئی اور نشان تم نے دیکھے ۔ پس گویا نہ دیکھے اور شاهدتموها، وكم من عجائب آنستموها، فما ظلّت لها أعناقكم خاضعين ۔ والآن أشرقت آية کئی عجائب کاموں کا تم نے مشاہدہ کیا۔ پس تمہاری گردنیں ان کیلئے نہ جھکیں اوراب لیکھر ام میں جو گوسالہ بے جان تھانشان ظاہر في "عجل جسد له خُوار "، فهل فيكم من يقبلها كالأحرار، أو تولون مدبرين؟ وتقولون إن "آتم" ہوا ۔ پس کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو آزادوں کی طرح اس کو قبول کرے یا تم پیٹھ پھیر دو گے ۔اور تم کہتے ہو کہ آتھم میعاد کے اندر مـا مـات فـي الميعاد، وتعلمون أنه خاف فيه قهر رب العباد ۔ ففكروا ألم يجب أن تُرعَى شريطة | نہیں مرا۔ اور تم جانتے ہو کہ وہ خدا کے قہر سے ڈرا۔ پس سوچ لو کہ کیا واجب نہ تھا کہ الہامی شرط کی رعایت کی جاتی اور اس وقت تک اس کو الإلهام، ويؤخر أجله إلى يوم يُنكر كاللئام؟ وقد سمعتم أنه ما تألّى إِذا دُعِيَ للأقسام، وما ذهب مہلت دی جاتی جو انکار کرے۔ اور تم سن چکے ہو کہ جب وہ قسم کیلئے بلایا گیا تو اس نے قسم نہ کھائی اور نہ نالش کی ۔ اب غور کرو کہ کیا اس کا مستغيثا إلى الحكام، فانظروا أمـا تـحـقق كذبه؟ أما بلغ الأمر إلى الإفحام إنّه زجى الزمان في جھوٹھ ثابت نہ ہوا۔ کیا یہ امر اتمام حجت تک نہیں پہونچا۔ اس نے پیشگوئی کا زمانہ خاموشی میں گزارا اور بیقراری اور سرگردانی میں صمت وسكوت، وأتم الميعاد كمضطرب مبهوت وألقى نفسه في متاعب وشوائب، وتراءى | میعاد کے زمانہ کو بسر کیا اور اپنے نفس کو طرح طرح کی تکالیف میں ڈالا اور ایسا شکستہ حال اپنے تئیں ظاہر کیا کہ گویا وہ مصیبتوں کا منكسرًا كأنه رأى نوائب، وما تفوه بكلمة يخالف الإسلام، حتى أكمل الأيام فهذه القرائن تحكم مارا ہوا ہے اور وہ ایک بھی ایسا کلمہ زبان پر نہ لایا جو اسلام کے مخالف ہو یہاں تک کہ اس نے پیشگوئی کی میعاد کو پورا کیا۔ پس یہ ببداهة أنه خشى عظمة الإسلام بكمال خشية، وكان مِنْ قَبْل يُجادل المُسلمين، ويُخاصم تمام قرائن بداہت حکم کرتے ہیں کہ وہ عظمت اسلام سے ضرور ڈرا۔ اور پہلے اس سے وہ مسلمانوں سے بحث و مباحثہ کیا کرتا تھا اور