حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 494

حجة اللہ — Page 160

روحانی خزائن جلد ۱۲ 17۔ حجة الله ۱۳) اور پھر ایک اور صاحب اپنا نام شیخ نجفی ظاہر کر کے میرے مقابل پر آئے ہیں ۔ اور مجھے کذاب اور دجال اور جاہل ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خسوف و کسوف کا نشان قیامت کو ظاہر ہوگا نہ اب۔ اس نادان کو یہ بھی خبر نہیں کہ اگر خسوف کسوف بطور نشان مهدی ظاہر ہوگا جیسا کہ دار قطنی وغیرہ کتب حدیث میں درج ہے تو قیامت کو اس نشان سے فائدہ کون اٹھائے گا بلکہ اس وقت تو مہدی کا آنا ہی لا حاصل ہوگا۔ جب خدا نے ہی نظام شمسی کو تو ڑ کر خلقت کا خاتمہ کرنا چاہا تو کون مہدی اور کہاں کے اس کے نشان ۔ وہ تو قیامت کا زمانہ آ گیا۔ اس میں کس کو کلام ہوسکتا ہے کہ مہدی کا زمانہ تجدید کا زمانہ ہے اور خسوف کسوف اس کی تائید کیلئے ایک نشان ہے۔ سو وہ نشان اب ظاہر ہو گیا۔ جس کو قبول کرنا ہو قبول کرے اور جیسا کہ حدیث میں لکھا تھا چاند گرہن اس پہلی رات میں ہوا جو چاند کی تین راتوں میں سے پہلی رات ہے اور سورج گرہن ان دنوں کے نصف میں ہوا جو سورج گرہن کیلئے مقرر ہیں اور اس طرح یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہو گئی۔ چونکہ زمانہ کے علما ءسورج اور چاند کی طرح ہوتے ہیں۔ سو اس پیشگوئی میں یہ اشارہ تھا کہ سورج اور چاند کا کسوف خسوف علماء کے دلوں کی تاریکی پر شاہد ہے کہ جو کچھ زمین میں ہوتا ہے آسمان اس کو دکھلا دیتا ہے۔ اور پھر یہی صاحب اپنے خط عربی میں جوڑ ولیدہ زبانی سے بھرا ہوا ہے مجھ کو لکھتے ہیں کہ اگر تو میرے مقابل پر آوے تو میں اپنا علم عربی تجھ کو دکھلاؤں حالانکہ ان کے اسی عربی خط سے ان کے علم کا بخوبی اندازہ ہو گیا اور معلوم ہو گیا کہ بجز چند چرائے ہوئے فقروں اور مسروقہ الفاظ کے ان کی کیونکہ جو شخص عظمت اسلامی کو رد نہیں کرتا بلکہ اس کا خوف اس پر غالب ہوتا ہے وہ ایک طور سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے اور اگر چہ ایسار جوع عذاب آخرت سے بچا نہیں سکتا مگر عذاب دنیوی میں بے باکی کے دنوں تک ضرور تا خیر ڈال دیتا ہے۔ یہی وعدہ قرآن کریم اور بیل میں موجود ہے اور جو کچھ ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم کی نسبت اور اس کے دل کی حالت کے بارے میں بیان کیا یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے اپنے تئیں سخت مصیبت زدہ بنا کر اور اپنے تئیں شدائد غربت میں ڈال کر اور اپنی زندگی کو ایک ماتمی پیرایہ پہنا کر اور ہر روز خوف اور ہر اس کی حرکات صادر کر کے اور ایک دنیا کو اپنی پریشانی اور دیوانہ پن دکھلا کر نہایت صفائی سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اس کے دل نے اسلامی عظمت اور صداقت کو قبول کر لیا۔ کیا یہ بات جھوٹ ہے کہ اس نے پیشگوئی کے رعب ناک مضمون کو بقيه حاشيه