حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 494

حجة اللہ — Page 159

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۵۹ حجة الله اور پھر تمہارا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے۔ سو میں کہتا ہے ہوں کہ اے نابکا رقوم ! کب تک تو اندھی اور گونگی اور بہری رہے گی؟ اور کب تک تیری آنکھیں اس نور کو نہیں دیکھیں گی جو اتارا گیا؟ سن اور سمجھے ! کہ اس الہام کے دو ٹکڑے تھے ایک احمد بیگ کے متعلق اور ایک اس کے داماد کے متعلق۔ سو تم سن چکے ہو کہ احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور وہ دن آتا ہے کہ تم سن لو گے کہ اس کے داماد کی نسبت بھی پیشگوئی پوری ہو گئی۔ خدا کی باتیں مل نہیں سکتیں! اور یہ اعتراض جو تم کرتے ہونے نہیں۔ نوشتوں کو پڑھو کہ پہلے بد فہم لوگوں نے بھی ایسے ہی اعتراض نبیوں پر بھی کئے ہیں ۔ تمہارے دل ان سے مشابہ ہو گئے ۔ اور تمہارا یہ کہنا کہ میعاد کے اندر وہ کیوں فوت نہیں ہوا ؟ " ۔ یہ تمہاری بے ایمانی یا نا کبھی ہے۔ الہام توہی توبی فان البلاء علی عقبک میں صاف تو بہ کی شرط تھی اور یہ الہام احمد بیگ اور اس کے داماد دونوں کے لئے تھا کیونکہ عقب لڑکی اور لڑکی کی اولاد کو کہتے ہیں اور یہ احمد بیگ کی بیوی کی والدہ کو خطاب تھا کہ تیری لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر خاوند مرنے کی بلا ہے۔ اگر تو بہ کرو گی تو تاخیر موت کی جائے گی ۔ پس احمد بیگ کی زندگی کے وقت کسی نے اس الہام کی پرواہ نہ کی اور جب احمد بیگ فوت ہو گیا تو اس کی بیوہ عورت اور دیگر پس ماندوں کی کمر ٹوٹ گئی وہ دعا اور تضرع کی طرف بدل متوجہ ہو گئے ۔ جیسا کہ سنا گیا ہے کہ اب تک احمد بیگ کے داماد کی والدہ کا کلیجہ اپنے حال پر نہیں آیا۔ سوخدادیکھتا ہے کہ وہ شوخیوں میں کب آگے قدم رکھتے ہیں ۔ پس اس وقت وعدہ اس کا پورا ہوگا جب یہ سب کچھ پورا ہوگا ۔ تب نہ میں بلکہ ہر ایک دانا تم پر لعنت بھیجے گا کیونکہ تم نے خدا کا مقابلہ کیا۔! یعنی موت بلا توقف اس پر نازل ہوتی اور ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب اس وقت تک تھما ر ہے جب تک کہ وہ بے باکی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا کرے اور الہام الہی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا تھا کیونکہ الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذاب موت کے آنے کا وعدہ تھا نہ مطلق بلا شرط وعدہ لیکن خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے اپنے دل کے تصورات سے اور اپنے افعال سے اور اپنی حرکات سے اور اپنے خوف شدید سے اور اپنے ہولناک اور ہراساں دل سے عظمت اسلامی کو قبول کیا اور یہ حالت ایک رجوع کرنے کی قسم ہے جو الہام کے استثنائی فقرہ سے کسی قدر تعلق رکھتی ہے۔