حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 494

حجة اللہ — Page 152

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۵۲ حجة الله (۴) کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی وہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو سترہ برس پہلے اس وقت سے براہین میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ اور نیز آثار نبویہ میں بھی اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اس پیشگوئی کی دونوں پہلوؤں کے رو سے تعمیل ہو چکی اور آتھم ایک مدت سے مر چکا ۔ پھر کیا اب تک وہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ لعنة الله علی الکاذبین - کیا آتھم با کر واٹر کی تھا جو بغیر کسی سبب قوی کے مقابل پر آنے سے شرم کی۔ آخر کوئی تو سبب تھا۔ وہ یہی سبب تھا کہ پیشگوئی کو سنتے ہی اسلامی ہیبت اس کو کھا گئی۔ وہ اندر ہی اندر گداز ہو گیا اور کسی جرات کے لائق نہ رہانہ قسم کے لائق اور نہ نالش کے لائق۔ جب قسم کیلئے بلایا جاتا تھا تو اس کا کلیجہ کانپ جاتا تھا۔ جب نالش کیلئے ابھارا جاتا تھا تو اس کا کانشنس اس کے منہ پر طمانچے مارتا تھا۔ مسیح نے خود قسم کھائی۔ پولوس نے کھائی۔ اس نے کیوں اشد ضرورت کے وقت نہ کھائی۔ اگر حملے ہوئے تھے تو نالش کرتا اور سزا دلاتا۔ اس کا حق تھا۔ اس نے کیوں نالش نہ کی ۔ اے غزنوی لوگو! کس قدر تمہیں سچائی سے دشمنی ہے۔ کیا کوئی حد بھی ہے؟ کیا تمہارا یہی تقویٰ ہے جس کو لے کر تم پنجاب میں آئے ؟!! ایک مسلمان کو کافر بناتے ہوا اور خدا کے صریح اور کھلے کھلے نشانوں کا انکار کرتے ہو۔ اور پادریوں کو اپنی دجالی باتوں سے مدد دیتے ہو۔ کیا تمہیں ایسا کرنا روا تھا؟ کیا خدا ایک دجال اور کذاب کی عظمت اور قبولیت کو زمین پر پھیلا رہا ہے؟ اور تم جیسے نیک بختوں کو ذلیل کر رہا ہے یا اس کو دھو کہ لگ گیا ہے۔ کیا وہ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا نہیں؟ کیا تم سچائی کو نابود کر دو گے؟ کیا وہ نور جو آسمان مجھے فرمایا اطلع الله على همه و غمه ۔ و لَن تَجِد لسُنّة الله تبديلا ولا تعجبوا ولا تحزنوا | بقيه حاشيه انتم الاعلون ان كنتم مؤمنين وبعزتی و جلالی انک انت الاعلى ونمزق الاعداء کل ممزق۔ ومکر اولئك هو یبور ۔ انا نكشف السر عن ساقه يومئذ يفرح المومنون۔ ثلة من الاولين و ثلة من الأخرين و هذه تذكرة فمن شاء اتَّخَذَ الى ربّه سبيلا۔ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ہم و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی جب تک کہ وہ بے باکی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دے ( یہ معنے فقرہ مذکورہ کے تفہیم الہی سے ہیں ) اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے اور تو ربانی سنتوں میں تغیر اور تبدل