حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 494

حجة اللہ — Page 151

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۵۱ حجة الله ہو گئی ۔ شرط کے موافق خدائے کریم نے اس کی موت میں تا خیر ڈال دی اور پھر الہام کے موافق (۳) اس کو سات مہینہ کے اندر مار دیا۔ چونکہ آتھم ڈرا اس لئے خدا نے اس کے معاملہ میں اپنی صفت رحم کو دکھلایا اور لیکھر ام نہیں ڈرا اس لئے خدا نے اس کے معاملہ میں اپنی صفت قہر کو دکھلایا۔ سوخدا نے ان دونوں پیشگوئیوں سے اپنی جمالی اور جلالی صفات کا نمونہ دکھلا دیا اور ہر ایک کی حالت کے موافق معاملہ کیا ۔ آتھم پیشگوئی کو سن کر تمام شوخیوں سے کنارہ کش ہو گیا مگر لیکھرام نہ ہوا۔ آتھم نے تمام مباحثات مسلمانوں سے چھوڑ دیئے مگر اس نے ہرگز نہ چھوڑے۔ آئھم اس دن تک جو میعاد کے دن پورے ہوئے مردہ کی طرح پڑا رہا اور روتا رہا مگر یہ ہنستا اور ٹھٹھے کرتا رہا۔ اس نے شرم دکھلائی مگر لیکھرام نے بے شرمی اور شوخی ظاہر کی اور اس نے اپنا منہ بند کر لیا اور لیکھرام نے گالیوں سے اپنا منہ کھولا اور خدا نے آتھم کی نسبت مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اِطَّلَعَ اللهُ عَلَی هَمِّهِ وَ غَمِهِ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلا یعنی خدا نے دیکھا کہ آتھم کا دل ہم و غم سے بھر گیا اس لئے اس رحیم خدا نے تاخیر ڈال دی اور پھر فرمایا کہ یہ کبھی نہیں ہو گا کہ خدا اپنی عادتوں کو بدل لے یعنی وہ ڈرنے والے کے ساتھ بھی نہیں کرتا مگر لیکھر ام نہ ڈرا اور اس کی بد قسمتی سے آتھم کا ڈرنا اس کو دلیر کر گیا یہی وجہ ہے کہ آتھم کی نسبت خدا نے نرمی سے معاملہ کیا کیونکہ وہ نرم رہا او لیکھر ام سے سختی سے کیونکہ اس نے سختی دکھلائی اور یہی وجہ ہے کہ آتھم کی نسبت صرف ایک دفعہ الہام ہوا اور وہ بھی شرط کے ساتھ اور لیکھر ام کے عذاب کے بارے میں بار بار قہری الہام ہوئے۔ غرض آتھم رجوع کرنے کا کوئی حصہ نہ لیتا تو اس میعاد کے اندر اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا لیکن خدا تعالی کے الہام نے مجھے جتلا دیا کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اس کے رعب کو تسلیم کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسی قدر حصہ لے لیا جس حصہ نے اس کے وعدہ موت اور کامل طور کے ہادیہ میں تا خیر ڈال دی اور ہادیہ میں تو گرا لیکن اس بڑے ہادیہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیا ۔ جس کا نام موت ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ الہامی لفظوں اور شرطوں میں سے کوئی ایسا لفظ یا شرط نہیں ہے جو بے تاثیر ہو یا جس کا کسی قدر موجود ہو جانا اپنی تاثیر پیدا نہ کرے لہذا ضرور تھا کہ جس قد ر مسٹر عبد اللہ آنتم کے دل نے حق کی عظمت کو قبول کیا اس کا فائدہ اس کو پانچ جائے ۔ سوخدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور بقيه حاشیه