حجة اللہ — Page 150
روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ذَبَ الْمُفْتَرِينُ إِنَّ الَّذِينَ يُحَارِبُونَنِي لَا يُحَارِبُونَ إِلَّا اللَّهَ فَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُون بُردباری می کند زور آوری جاہلے فہد کہ ہستم برترے اس وقت میرے سامنے وہ کاغذ پڑے ہیں جن میں نام کے مسلمانوں نے مجھ کو گالیاں دی ہیں چنانچہ ان میں سے ایک عبد الحق غزنوی ہے جو اپنے اشتہار میں مجھے دجال ٹھہرا کر اپنے اشتہار کے عنوان میں لکھتا ہے کہ ضَرب النعال على وجه الدجال یعنی اس دجال کے منہ پر جوتی مارتا ہوں۔ سو یہ تو اس نے سچ کہا کیونکہ در حقیقت وہ خود دجال ہے اور آسمان سے اس کے منہ پر جوتی پڑی نہ کسی اور کے منہ پر۔ ابھی معلوم نہیں کہ کہاں تک اس کا سر نرم کیا جائے گا۔ ابھی تو جلسہ مذاہب سے اس وقت تک صرف دو آسمانی جوتے اس کے سر پر پڑے ہاں ضرب شدید سے پڑے جس سے کچھ ہڈیاں ٹوٹی ہوں گی ۔ معلوم نہیں کہ کس وقت اس بد بخت نے یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ دعا کی طرح اس کے حق میں قبول ہو گیا۔ پھر اسی اشتہار میں یہ نادان میری نسبت لکھتا ہے کہ لعنت کا طوق اس کے گلے میں ہے مگر اب اسے پوچھنا چاہئے کہ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے کہ کس کے گلے میں ہے؟ ذرہ سمجھ کر بولے کہ مذہبی جلسہ کے الہامی اشتہار نے کس کے منہ کو سیاہ کیا۔ لیکھرام کی موت نے کس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا۔ بار بار یہ شخص آتھم کی پیشگوئی کی نسبت اعتراض کرتا ہے ۔ جاہل کو اب تک سمجھ نہیں آتا کہ آتھم کی پیشگوئی جیسا کہ الہام کے الفاظ اور الہام کی شرط تھی کامل صفائی سے پوری آتھم کے حالات کے بارے میں جو کچھ انوار الاسلام میں چھپا تھاوہ پھر بطور مختصر فائدہ عام کیلئے لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔ حاشيه سیہ بات بالکل بیچ اور یقینی اور الہام کے مطابق ہے کہ اگر مسٹر عبد اللہ کا دل جیسا کہ پہلے تھا ویسا ہی تو ہین اور تحقیر اسلام پر قائم رہتا اور اسلامی عظمت کو قبول کر کے حق کی طرف