حُجة الاسلام — Page 67
روحانی خزائن جلد ۶ حجۃ الاسلام جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا ہے اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب کر کے آپ (۳۰ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کے لئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرما دیں گے جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام تھا مجھ کو ملا اور میں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے تو میری روح اسی وقت بول اٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔ وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنا نہیں چاہتا میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنی طرف کھینچ لائے گا لیکن اس کے نکلنے کے لئے کوئی تقریب چاہیے تھی سو آپ صاحبوں کا مسلمانوں کو مقابلہ کے لئے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب ہے مجھے امید نہیں کہ آپ اس بات پر ضد کریں کہ ہمیں تو جنڈیالہ کے مسلمانوں سے کام ہے نہ کسی اور سے ۔ آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نامی فاضل نہیں اور یہ آپ کی شان سے بھی بعید ہو گا کہ آپ عوام سے الجھتے پھریں اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوں کے مقابلہ کے لئے دس برس کا پیاسا ہے اور کئی ہزار خط اردو انگریزی اسی پیاس کے جوش سے آپ جیسے معزز پادری صاحبان کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اور پھر جب کچھ جواب نہ آیا تو آخر نا امید ہو کر بیٹھ گیا چنانچہ بطور نمونہ ان خطوں میں سے کچھ روا نہ بھی کرتا ہوں ۔ تا کہ آپ کومعلوم ہو کہ آپ کی اس توجہ کا اول مستحق میں ہی ہوں ۔ اور سوائے اس کے اگر میں (۳۱) کا ذب ہوں تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں میں پورے دس سال سے میدان میں کھڑا ہوں جنڈیالہ میں میری دانست میں ایک بھی نہیں جو میدان کا سپاہی تصور کیا جائے اس لئے بادب مکلف ہوں کہ اگر یہ امر مطلوب ہے کہ یہ روز کے قصے طے ہو جائیں اور جس مذہب کے ساتھ خدا ہے اور جو لوگ بچے خدا پر ایمان لائے ہیں ان کے کچھ امتیازی انوار ظاہر ہوں تو اس عاجز سے مقابلہ کیا جائے ۔ آپ لوگوں کا یہ ایک بڑا دعوی ہے کہ