حقیقة المہدی — Page 448
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۴۸ حقيقت المهدى اور صلح کاری کے عقائد کا پابند ہے تو وہ اپنا اشتہار عربی اور فارسی میں چھاپ کر دو سو کاپی اس کی میری طرف روانہ کرے تا میں اپنے ذریعہ سے مکہ اور مدینہ اور بلاد شام اور روم اور کابل وغیرہ میں شائع کروں۔ ایسا ہی مجھ سے دوسو کاپی میرے اشتہار عربی اور فارسی کی لے لے تا بطور خود ان کو شائع کرے۔ ہماری دانا گورنمنٹ کو بخوبی یادر ہے کہ یونہی گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے صرف بگفتن کوئی رسالہ ذو معنین لکھنا اور پھر اچھی طرح اس کو شائع نہ کرنا یہ طریق اخلاص نہیں ہے یہ اور بات ہے۔ اور بچے دل سے اور پورے جوش سے کسی ایسے رسالہ کو جو عام خیالات مسلمانوں کے برخلاف ہو در حقیقت غیر ممالک تک بخوبی شائع کر دینا یہ اور بات ہے۔ اور اس بہادر کا کام ہے جس کا دل اور زبان ایک ہی ہوں ۔ اور جس کو خدا نے در حقیقت یہی تعلیم دی ہے۔ بھلا اگر یہ شخص نیک نیت ہے تو بلا توقف اس کو یہ کارروائی کرنی چاہیے۔ ورنہ گورنمنٹ یا در کھے اور خوب یادر کھے کہ اگر اس نے میرے مقابل پر ایسا رسالہ عربی اور فارسی میں شائع نہ کیا تو پھر اس کا نفاق ثابت ہو جائے گا۔ یہ کام صرف چند گھنٹہ کا ہے اور بجز بد نیتی کے اس کا کوئی مانع نہیں۔ ہماری عالی گورنمنٹ یا در کھے کہ یہ شخص سخت درجہ کے نفاق کا برتاؤ رکھتا ہے اور جن کا یہ سرگر وہ کہلاتا ہے وہ بھی اسی عقیدے اور خیال کے لوگ ہیں۔ اب میں اپنے وعدہ کے موافق اشتہار عربی اور فارسی ذیل میں لکھتا ہوں اور سچائی کے اختیار کرنے میں بجز خدا تعالی کے کسی سے نہیں ڈرتا۔ اور میں نے حسن ترتیب اور دونوں اشتہاروں کی موافقت تامہ کے لحاظ سے قرین مصلحت سمجھا ہے کہ عربی میں اصل اشتہار لکھوں اور فارسی میں اسی کا ترجمہ کردوں تا دونوں اشتہار اپنے اپنے طور پر لکھے جائیں اور نیز عربی اشتہار جس کو ہر ایک غیر زبان کا آدمی بآسانی پڑھ نہیں سکتا اس کا ترجمہ بھی ہو جائے ۔ چنانچہ اب وہ دونوں اشتہار لکھ کر اس رسالہ کے ساتھ شامل کرتا ہوں ۔ وباللہ التوفیق الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء