حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 550

حقیقة المہدی — Page 447

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۴۷ گورنمنٹ عالیہ کے سچے خیر خواہ کے پہچاننے کے لئے ایک کھلا کھلا طریق آزمایش حقيقت المهدى ( گورنمنٹ عالیہ سے بادب التماس ہے کہ اس مضمون کو غور سے دیکھا جائے اور حسب منشائے درخواست ہر دو فریق کا امتحان لیا جائے ) چونکہ مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ ہمیشہ پوشید و طور پر کوشش کرتا رہا ہے کہ گورنمنٹ عالیہ انگریزی کو میرے پر بدظن کرے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ کئی سال سے اس کا یہی شیوہ ہے اس لئے میں نے مناسب دیکھا ہے کہ محمد حسین اور میری نسبت ایک ایسا طریق آزمایش قائم ہو جس سے گورنمنٹ عالیہ کو سچا خیر خواہ اور چھپا ہوا بد خواہ معلوم ہو جائے ۔ اور آئندہ ہماری دانا گورنمنٹ اسی پیمانہ کے رو سے دونوں میں سے مخلص اور منافق میں امتیاز کر سکے۔ سو وہ طریق میری دانست میں یہ ہے کہ چند ایسے عقائد جو غلہ انہی سے اسلامی عقائد سمجھے گئے ہیں اور ایسے ہیں کہ ان کو جو شخص اپنا عقیدہ بنا دے وہ گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے۔ ان عقائد کو اس طرح پر آلۂ شناخت مخلص و منافق بنایا جائے کہ عرب یعنی مکہ اور مدینہ وغیرہ عربی بلاد اور کابل اور ایران وغیرہ میں شائع کرنے کے لئے عربی اور فارسی میں وہ عقائد ہم دونوں فریق لکھ کر اور چھاپ کر سر کار انگریزی کے حوالہ کریں تا کہ وہ اپنے اطمینان کے موافق شائع کر دے ۔ اس طریق سے جو شخص منافقانہ طور پر برتاؤ رکھتا ہے اس کی حقیقت کھل جائے گی ۔ کیونکہ وہ ہرگز ان عقائد کو صفائی سے نہیں لکھے گا اور ان کا اظہار کرنا اس کو موت معلوم ہو گی ۔ اور ان عقائد کا شائع کرنا اس کے لئے محال ہوگا ۔ اور مکہ اور مدینہ میں ایسے اشتہار بھیجنا تو اس کو موت سے بدتر ہوگا ۔ سو اگر چہ میں عرصہ میں برس سے ایسی کتابیں عربی اور فارسی میں تالیف کر کے ممالک عرب اور فارس میں شائع کر رہا ہوں لیکن اس امتحان کی غرض سے اب بھی اس اشتہار کے ذیل میں ایک تقریر عربی اور فارسی میں اپنے پر امن عقائد کی نسبت اور مہدی اور مسیح کی غلط روایات کی نسبت اور گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت شائع کرتا ہوں میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ اگر محمد حسین جو اہل حدیث کا سرگروہ کہلاتا ہے میرے عقائد کی طرح امن (۱۴