حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 550

حقیقة المہدی — Page 443

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۴۳ حقيقت المهدى نشیب کا آدمی انجام کی خبر نہیں دے سکتا۔ اسی لئے بلعم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہچاننے میں دھوکا کھایا اور اس کو ان کا وہ عالی مرتبہ برگزیدگی کا معلوم نہ ہو سکا جس سے ڈر کر وہ ادب اختیار کرتا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی یہودیوں میں کئی ملہم اور خواب بین تھے مگر چونکہ وہ نشیب میں تھے اور اظہار علی الغیب کا ان کو مرتبہ نہیں دیا گیا تھا اس لئے وہ حضرت عیسی کو شناخت نہ کر سکے اور اپنے جیسا بلکہ اپنے سے بھی کم تر ایک انسان سمجھ لیا۔ اور خواب بینوں اور الہام یا بوں کے لئے یہ ایک ایسا ابتلاء ہے کہ اگر خدا کا فضل نہ ہو تو اکثر اس میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور نیم ملا خطرہ ایمان کی مثل ان پر صادق آجاتی ہے۔ اس لئے قیام نشیب اور اظہار علی الغیب کا فرق یا درکھنے کے لائق ہے۔ بہت سے ایسے نابینا ملہم جن کے پیرگڑھے میں سے نہیں نکلے ہماری نسبت ایسی پیشگوئیاں کرتے ہیں کہ گویا اب ہمارے سلسلہ کا خاتمہ ہے۔ وہ اگر تو بہ کریں تو ان (۱۰) کے لئے بہتر ہے۔ ان کو یا درکھنا چاہیے کہ زندگی کے درمیانی حصوں میں انبیاء علیہم السلام بھی بلاؤں سے محفوظ نہیں رہے مگر انجام بخیر ہوا۔ اسی طرح اگر ہمیں بھی اس درمیانی مراحل میں کوئی غم پہنچے یا کوئی مصیبت پیش آوے تو اس کو خدا تعالیٰ کا اخیری حکم سمجھنا غلطی ہے۔ خدا تعالی کا حتمی وعدہ ہے کہ وہ ہمارے سلسلہ میں برکت ڈالے گا۔ اور اپنے اس بندہ کو بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ اس بندہ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ وہ ہر ایک ابتلا اور پیش آمدہ ابتلا کا بھی انجام بخیر کرے گا اور دشمنوں کے ہر ایک بہتان سے انجام کار برینت ظاہر کر دے گا۔ اس بارہ میں اس کے پاک الہام اس قدر ہوئے ہیں کہ اگر سب لکھے جائیں تو یہ اشتہار ایک رسالہ ہو جائے گا۔ لہذا چند الہام اور ایک خواب بطور نمونہ ذیل میں لکھتا ہوں اور وہ یہ ہیں۔ مجھے ۲۱ / رمضان المبارک ۱۳۱۶ھ جمعہ کی رات میں جس میں انتشار روحانیت مجھے محسوس ہوتا تھا اور میرے خیال میں تھا کہ یہ لیلۃ القدر ہے اور آسمان سے نہایت آرام اور آہستگی