حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 64

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۴ حقيقة اور نہایت دیانت اور تدبر سے اُن کے اُصول میں غور کی مگر سب کو حق سے دور اور مہجور پایا۔ ہاں یہ مبارک مذہب جس کا نام اسلام ہے وہی ایک مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور وہی ایک مذہب ہے جو انسانی فطرت کے پاک نقا ضاؤں کو پورا کرنے والا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ انسان کی ایک ایسی فطرت ہے کہ وہ ہر ایک بات میں کمال کو چاہتا ہے۔ پس چونکہ انسان خدا تعالیٰ کے تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے وہ اس بات پر راضی نہیں ہوسکتا کہ وہ خدا جس کی شناخت میں اُس کی نجات ہے اُسی کی شناخت کے بارے میں صرف چند بے ہودہ قصوں پر حصر رکھے اور وہ اندھا رہنا نہیں چاہتا بلکہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کے متعلق پورا علم پاوے گویا اُس کو دیکھ لے۔ سو یہ خواہش اُس کی محض اسلام کے ذریعہ سے پوری ہو سکتی ہے۔ اگر چہ بعض کی یہ خواہش نفسانی جذبات کے نیچے چھپ گئی ہے اور جو لوگ دنیا کی لذات کو چاہتے ہیں اور دنیا سے محبت کرتے ہیں وہ بوجہ سخت محجوب ہونے کے نہ خدا کی کچھ پروا رکھتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کے وصال کے طالب ہیں کیونکہ دنیا کے بت کے آگے وہ سرنگوں ہیں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص دنیا کے بت سے رہائی پائے اور دائی اور سچی لذت کا طالب ہو وہ صرف قصوں والے مذہب پر خوش نہیں ہو سکتا اور نہ اُس سے کچھ تسلی پاسکتا ہے ایسا شخص محض اسلام میں اپنی تسلی پائے گا۔ اسلام کا خدا کسی پر اپنے فیض کا دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بلا رہا ہے کہ میری طرف آؤ اور جولوگ پورے زور سے اس کی طرف دوڑتے ہیں اُن کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے۔ سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی ۔ اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا ۔ سو میں نے جو کچھ پایا ۔ اُس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان