حقیقةُ الوحی — Page 63
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۳ حقيقة اسی طرح ہندو مذہب جس کی ایک شاخ آریہ مذہب ہے وہ سچائی کی حالت سے بالکل گرا ہوا ہے اُن کے نزدیک اس جہان کا ذرہ ذرہ قدیم ہے جن کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔ پس ہندوؤں کو اُس خدا پر ایمان نہیں جس کے بغیر کوئی چیز ظہور میں نہیں آئی اور جس کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی اور کہتے ہیں کہ اُن کا پر میشر کسی کے گناہ معاف نہیں کر سکتا گویا اُس کی اخلاقی حالت انسان کی اخلاقی حالت سے بھی گری ہوئی ہے جبکہ ہم اپنے گنہگاروں کے گنہ معاف کر سکتے ہیں اور اپنے نفوس میں ہم یہ قوت پاتے ہیں کہ جو شخص سچے دل سے اپنے قصور کا اعتراف کرے اور اپنے فعل پر سخت نادم ہو اور آئندہ کے لئے اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرے اور تذلیل اور انکسار سے ہمارے سامنے تو بہ کرے تو ہم خوشی کے ساتھ اُس کے گناہ معاف کر سکتے ہیں بلکہ معاف کرنے سے ہمارے اندر ایک خوشی پیدا ہوتی ہے تو پھر کیا وجہ کہ وہ پر میشر جو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جس کے پیدا کردہ گنہگار ہیں اور اُن کے گناہ کرنے کی طاقتیں بھی اسی کی طرف سے ہیں۔ اُس میں یہ عمدہ خلق نہیں اور جب تک کروڑوں سال تک ایک گناہ کی سزا نہ دے خوش نہیں ہوتا۔ ایسے پر میشر کے ماتحت رہ کر کیوں کر کوئی نجات پاسکتا ہے اور کیوں کر کوئی ترقی حاصل کر سکتا ہے۔ غرض میں نے خوب غور سے دیکھا کہ یہ دونوں مذہب راستبازی کے مخالف ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جس قدر ان مذاہب میں روکیں اور نومیدی پائی جاتی ہے میں سب کو اس (11) رسالہ میں لکھ نہیں سکتا۔ صرف بطور خلاصہ لکھتا ہوں کہ وہ خدا جس کو پاک روحیں تلاش کرتی ہیں اور جس کو پانے سے انسان اسی زندگی میں بچی نجات پاسکتا ہے اور اُس پر انوار الہی کے دروازے کھل سکتے ہیں اور اُس کی کامل معرفت کے ذریعہ سے کامل محبت پیدا ہو سکتی ہے۔ اُس خدا کی طرف یہ دونوں مذہب رہبری نہیں کرتے اور ہلاکت کے گڑھے میں ڈالتے ہیں ایسا ہی ان کے مشابہ دنیا میں اور مذاہب بھی پائے جاتے ہیں مگر یہ سب مذاہب خدائے واحد لاشریک تک نہیں پہنچا سکتے اور طالب کو تاریکی میں چھوڑتے ہیں۔ یہ وہ تمام مذاہب ہیں جن میں غور کرنے کے لئے میں نے ایک بڑا حصہ عمر کا خرچ کیا