حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 62

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۲ حقيقة خواہش اور شراب خواری اور قمار بازی اور بدنظری اور نا جائز تعلقات عیسائی قوم میں بڑھ گئے کہ جیسے ایک خونخوار اور تیز رو دریا پر جو ایک بند لگایا گیا تھا وہ بند یک دفعہ ٹوٹ جائے اور ارد گرد کے تمام دیہات اور زمین کو تباہ کر دے۔ یہ بھی یادر ہے کہ صرف گناہ سے پاک ہونا انسان کے لئے کمال نہیں ۔ ہزاروں کیڑے مکوڑے اور چرند و پرند ہیں کہ کوئی گناہ نہیں کرتے ۔ پس کیا ان کی نسبت ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تک پہنچ گئے ہیں۔ پس سوال یہ ہے کہ مسیح نے روحانی کمالات کے حاصل کرنے کے لئے کون سا کفارہ دیا۔ انسان خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ اوّل بدی سے پر ہیز کرنا۔ دوم نیکی کے اعمال کو حاصل کرنا اور محض بدی کو چھوڑ نا کوئی ہنر نہیں ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے یہ دونوں قو تیں اس کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ ایک طرف تو جذبات نفسانی اس کو گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں اور دوسری طرف محبت الہی کی آگ جو اُس کی فطرت کے اندر مخفی ہے وہ اُس گناہ کے خس و خاشاک کو اس طرح پر جلا دیتی ہے جیسا کہ ظاہری آگ ظاہری خس و خاشاک کو جلاتی ہے مگر اُس روحانی آگ کا افروختہ ہونا جو گناہوں کو جلاتی ہے معرفت الہی پر موقوف ہے کیونکہ ہر ایک چیز کی محبت اور عشق اُس کی معرفت سے وابستہ ہے۔ جس چیز کے حسن اور خوبی کا تمہیں علم نہیں تم اس پر عاشق نہیں ہو سکتے۔ پس خدائے عز و جل کی خوبی اور حسن و جمال کی معرفت اس کی محبت پیدا کرتی ہے اور محبت کی آگ سے گناہ جلتے ہیں مگر سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ معرفت ۲۰ عام لوگوں کو نبیوں کی معرفت ملتی ہے اور ان کی روشنی سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ اُن کو دیا گیا وہ اُن کی پیروی سے سب کچھ پالیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ عیسائی مذہب میں معرفت الہی کا دروازہ بند ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہم کلامی پر مہر لگ گئی ہے اور آسمانی نشانوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ پھر تازہ بتازہ معرفت کس ذریعہ سے حاصل ہو۔صرف قصوں کو زبان سے چاٹو۔ ایسے مذہب کو ایک نظمند کیا کرے جس کا خدا ہی کمزور اور عاجز ہے اور جس کا سارا مدار قصوں اور کہانیوں پر ہے۔