حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 60

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة ۵۸ عقائد خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت کے برخلاف تھے یا کسی قسم کی تو ہین کو مستلزم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہب مجھے پسند نہ آیا کیونکہ اس کے ہر ایک قدم میں خدائے عزوجل کی تو ہین ہے۔ ایک عاجز انسان جو اپنے نفس کی بھی مدد نہ کر سکا اُس کو خدا ٹھیرایا گیا اور اُسی کو خَالِقُ السموات والارض سمجھا گیا۔ دنیا کی بادشاہت جو آج ہے اور کل نابود ہو سکتی ہے اُس کے ساتھ ذلت جمع نہیں ہو سکتی۔ پھر خدا کی حقیقی بادشاہی کے ساتھ اتنی ذلتیں کیوں جمع ہوگئیں کہ وہ قید میں ڈالا گیا ، اُس کو کوڑے لگے اور اُس کے منہ پر تھوکا گیا اور آخر بقول عیسائیوں کے ایک لعنتی موت اُس کے حصہ میں آئی جس کے بغیر وہ اپنے بندوں کو نجات نہیں دے سکتا تھا تو کیا ایسے کمزور خدا پر کچھ بھروسہ ہو سکتا ہے اور کیا خدا بھی ایک فانی انسان کی طرح مرجاتا ہے اور پھر صرف جان نہیں بلکہ اُس کی عصمت اور اُس کی ماں کی عصمت پر بھی یہودیوں نے ناپاک تہمتیں لگائیں اور کچھ بھی اُس خدا سے نہ ہو سکا کہ زبر دست طاقتیں دکھلا کر اپنی بر بیت ظاہر کرتا۔ پس ایسے خدا کا ماننا عقل تجویز نہیں کر سکتی جو خود مصیبت زدہ ہونے کی حالت میں مر گیا اور یہودیوں کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکا اور یہ کہنا کہ اُس نے عمداً اپنے تئیں صلیب پر چڑھایا تا اُس کی امت کے گناہ بخشے جائیں اس سے زیادہ کوئی بیہودہ خیال نہیں ہوگا۔ جس شخص نے تمام رات حمد یہ بات کہ اس لعنتی موت پر مسیح خود راضی ہو گیا تھا اس دلیل سے رو ہو جاتی ہے کہ مسیح نے باغ میں رورو کر دعا کی کہ وہ پیالہ اُس سے مل جائے اور پھر صلیب پر کھنچنے کے وقت چیخ مار کر کہا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اگر وہ اس صلیبی موت پر راضی تھا تو اُس نے کیوں دعائیں کیں اور یہ خیال کہ مسیح کی صلیبی موت خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق پر ایک رحمت تھی اور خدا نے خوش ہو کر ایسا کام کیا تھا تا دنیا مسیح کے خون سے نجات پاوے تو یہ وہم اس دلیل سے رو ہو جاتا ہے کہ اگر در حقیقت اُس دن رحمت الہی جوش میں آئی تھی تو کیوں اُس دن سخت زلزلہ آیا یہاں تک کہ ہیکل کا پردہ پھٹ گیا اور کیوں سخت آندھی آئی اور سورج تاریک ہو گیا۔ اس سے تو صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مسیح کو صلیب دینے پر سخت ناراض تھا جس کی وجہ سے چالیس برس تک خدا نے یہودیوں کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا رہے۔ اوّل سخت طاعون سے ہلاک ہوئے اور آخر طیطوس رومی کے ہاتھ سے ہزاروں یہودی مارے گئے ۔ منہ