حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 59

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹ حقيقة باب چهارم اپنے حالات کے بیان میں یعنی اس بات کے بیان میں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے مجھے ان اقسام ثلاثہ میں سے کس قسم میں داخل فرمایا ہے خدا تعالیٰ اس بات کو جانتا ہے اور وہ ہر ایک امر پر بہتر گواہ ہے کہ وہ چیز جو اُس کی راہ میں مجھے سب سے پہلے دی گئی وہ قلب سلیم تھا یعنی ایسا دل کہ حقیقی تعلق اُس کا بجز خدا عزوجل کے کسی چیز کے ساتھ نہ تھا۔ میں کسی زمانہ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوا مگر میں نے کسی حصہ عمر میں بجز خدائے عز و جل کسی کے ساتھ اپنا حقیقی تعلق نہ پایا۔ گویا رومی مولوی صاحب نے میرے لئے ہی یہ دوشعر بنائے تھے: من ز ہر جمعیتے نالاں شدم جفت خوشحالان و بدحالان شدم ہر کے از ظن خود شد یار من و از درون من نجست اسرار من اگر چہ خدا نے کسی چیز میں میرے ساتھ کمی نہیں رکھی اور اس درجہ تک ہر ایک نعمت اور راحت مجھے عطا کی کہ میرے دل اور زبان کو یہ طاقت ہر گز نہیں کہ میں اُس کا شکر ادا کر سکوں تا ہم میری فطرت کو اُس نے ایسا بنایا ہے کہ میں دنیا کی فانی چیزوں سے ہمیشہ دل برداشتہ رہا ہوں ۔ اور اُس زمانہ میں بھی جبکہ میں اس دنیا میں ایک نیا مسافر تھا اور میرے بالغ ہونے کے ایام ابھی تھوڑے تھے۔ میں اس تپش محبت سے خالی نہیں تھا جو خدائے عزوجل سے ہونی چاہیے اور اسی تپش محبت کی وجہ سے میں ہرگز کسی ایسے مذہب پر راضی نہیں ہوا جس کے ۵۷