حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 53

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۳ نیک بھی ہوتے ہیں۔ اور کئی لوگ ایسے ہیں کہ بدذات لوگ اُن کی عورتوں سے زنا بالجبر کرتے ہیں ۔ اور کئی ایسے لوگ ہیں جن کی اولا د کسی جنگل میں پانی سے ترستی ترستی مرجاتی ہے اور اُن کے لئے غیب سے کوئی آب زمزم پیدا نہیں ہوتا۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ ہر ایک شخص سے بقدر تعلق ہوتا ہے۔ اور گومبو بین الہی پر مصائب بھی پڑتی ہیں مگر نصرت الہی نمایاں طور پر اُن کے شامل حال ہوتی ہے اور غیرت الہی ہرگز ہر گز گوارا نہیں کرتی کہ اُن کو ذلیل اور رسوا کرے اور اُس کی محبت گوارا نہیں کرتی کہ اُن کا نام دنیا سے مٹادے۔ اور کرامات کی اصل بھی یہی ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا کا ہو جاتا ہے اور اُس میں اور اُس کے رب میں کوئی حجاب باقی نہیں رہتا اور وہ وفا اور صدق کے تمام اُن مراتب کو پورے کر کے دکھلاتا ہے جو حجاب سوز ہیں تب وہ خدا کا اور اُس کی قدرتوں کا وارث ٹھہرایا جاتا ہے اور خدا تعالی طرح طرح کے نشان اس کے لئے ظاہر کرتا ہے جو بعض بطور دفع شر ہوتے ہیں (۵۱) اور بعض بطورا فاضہ خیر اور بعض اُس کی ذات کے متعلق ہوتے ہیں اور بعض اُس کے اہل وعیال کے متعلق اور بعض اُس کے دشمنوں کے متعلق اور بعض اُس کے دوستوں کے متعلق اور بعض اُس کے اہل وطن کے متعلق اور بعض عالمگیر اور بعض زمین سے اور بعض آسمان سے۔ غرض کوئی نشان ایسا نہیں ہوتا جو اُس کے لئے دکھلایا نہیں جاتا اور یہ مرحلہ وقت طلب نہیں اور کسی بحث کی اس جگہ ضرورت نہیں کیونکہ اگر در حقیقت کسی شخص کو یہ تیسرا درجہ نصیب ہو گیا ہے جو بیان ہو چکا ہے تو دنیا ہرگز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ہر ایک جو اُس پر گرے گا وہ پاش پاش ہو جائے گا اور جس پر وہ گرے گا اُس کو ریزہ ریزہ کر دے گا کیونکہ اُس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ اور اُس کا منہ خدا کا منہ ہے اور اُس کا وہ مقام ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ یہ ظاہر ہے کہ اگر چہ درہم و دینا را اکثر لوگوں کے پاس ( جو مالدار ہیں ) ہوتے ہیں لیکن اگر وہ گستاخی کر کے بادشاہ کا مقابلہ کریں جس کے خزائن مشرق و مغرب میں پڑے ہوئے ہیں تو ایسے مقابلہ کا انجام بجز ذلت کے کیا ہوگا ؟ ایسے لوگ ہلاک ہوں گے اور وہ تھوڑے سے درہم و دینار ان کے بھی ضبط کئے جائیں گے۔