حقیقةُ الوحی — Page 52
۵۲ روحانی خزائن جلد ۲۲ ہر ایک جو اُن سے عداوت کرتا ہے آخر خاک میں ملایا جاتا ہے اور خدا اُن کی ہر بات میں اور حرکات میں اور اُن کے لباس میں اور مکان میں برکتیں رکھ دیتا ہے اور اُن کے دوستوں کا دوست اور اُن کے دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے اور زمین اور آسمان کو ان کی خدمت میں لگا دیتا ہے اور جیسا کہ زمین اور آسمان کی مخلوقات پر نظر ڈال کر ماننا پڑتا ہے کہ ان مصنوعات کا ایک خدا ہے ایسا ہی اُن تمام نصرتوں اور تائیدوں اور نشانوں پر نظر ڈال کر جو ان کے لئے خدا تعالی ظاہر فرماتا ہے قبول کرنا پڑتا ہے کہ وہ مقبول الہی ہیں پس وہ اُن تائیدوں اور نصرتوں اور نشانوں سے شناخت کئے جاتے ہیں کیونکہ وہ اس کثرت اور اس صفائی سے ہوتے ہیں کہ اُن میں کوئی دوسرا شریک اُن کا ہو ہی نہیں سکتا۔ ماسوا اس کے جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنی صفات اخلاقیہ سے دلوں میں اپنی محبت جماوے ایسا ہی اُن کی صفات اخلاقیہ میں اس قدر معجزانہ تا شیر رکھ دیتا ہے کہ دل اُن کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔ وہ ایک عجیب قوم ہے کہ مرنے کے بعد زندہ ہوتے ہیں اور کھونے کے بعد پاتے ہیں اور اس قدر زور سے صدق اور وفا کی راہوں پر چلتے ہیں کہ اُن کے ساتھ خدا کی ایک الگ ۵۰ عادت ہو جاتی ہے گویا اُن کا خدا ایک الگ خدا ہے جس سے دنیا بے خبر ہے۔ اور اُن سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہر گز نہیں کرتا جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا اس لئے ہر ایک ابتلا کے وقت خدا نے اُس کی مدد کی جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا خدا نے آگ کو اُس کے لئے سرد کر دیا۔ اور جب ایک بد کردار بادشاہ اُن کی بیوی سے بد ارادہ رکھتا تھا تو خدا نے اُس کے اُن ہاتھوں پر بلا نازل کی جن کے ذریعہ سے وہ اپنے پلید ارادہ کو پورا کرنا چاہتا تھا۔ پھر جبکہ ابراہیم نے خدا کے حکم سے اپنے پیارے بیٹے کو جو اسمعیل تھا ایسی پہاڑیوں میں ڈال دیا جن میں نہ پانی نہ دانہ تھا تو خدا نے غیب سے اُس کے لئے پانی اور سامان خوراک پیدا کر دیا۔ اور ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ظالم لوگ اُن کو ہلاک کر دیتے ہیں اور آگ میں ڈالتے اور پانی میں غرق کر دیتے ہیں اور کوئی مدد خدا تعالی کی طرف سے اُن کو نہیں پہنچتی گو وہ