حقیقةُ الوحی — Page 738
’’زلزلہ کی پیشگوئی منظوم‘‘ پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اِس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن تم تو ہو آرام میں پر اپنا قِصّہ کیا کہیں پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن کیوں غضب بھڑکا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو! ہوگئے ہیں اِس کاموجب میرے جھٹلانے کے دن غیر کیا جانے کہ غیرت اُس کی کیا دکھلائے گی خود بتائے گا اُنہیں وہ یار بتلانے کے دن وہ چمک دِکھلائے گا اپنے نشاں کی پنج *بار یہ خُدا کا قول ہے سمجھوگے سمجھانے کے دن طالبو! تم کو مبارک ہو کہ اب نزدیک ہیں اُس مرے محبوب کے چہرہ کے دِکھلانے کے دن وہ گھڑی آتی ہے جب عیسیٰ پکاریں گے مجھے اب تو تھوڑے رہ گئے دجّال کہلانے کے دن اے مِرے پیارے یہی میری دعاہے روز و شب گود میں تیری ہوں ہم اُس خونِ دل کھانے کے دن کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں فضل کا پانی پلا اُس آگ برسانے کے دن اے مِرے یارِ یگانہ اے میری جاں کی پناہ کر وہ دن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن پھر بہارِ دیں کو دکھلا اے مرے پیارے قدیر کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن دِن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے میرے سُورج دِکھا اِس دیں کے چمکانے کے دن دِل گھٹا جاتاہے ہر دم جاں بھی ہے زیر وزبر اِک نظر فرماکہ جلد آئیں تیرے آنے کے دن چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیں گے ترسانے کے دن خدا تعالیٰ کے اصل لفظ جو مجھ پر نازل ہوئے یہ ہیں ’’ چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار‘‘ یعنی پنج مرتبہ غیر معمولی طور پر زلزلہ آئے گا جو اپنی شدت میں نظیر نہیں رکھتا ہوگا۔