حقیقةُ الوحی — Page 737
زلزلے کے متعلق پیشگوئی (مندرجہ چشمہ مسیحی) دوستو! جاگو کہ اب پھر زلزلہ آنے کوہے پھر خدا قُدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے وہ جوماہِ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقیں سمجھو کہ وہ اِک زجر سمجھانے کو ہے آنکھ کے پانی سے یارو کچھ کرو اِس کا علاج آسماں اے غافلو! اب آگ برسانے کو ہے کیوں نہ آویں زلزلے تقوےٰ کی رہ گم ہو گئی اِک مسلماں بھی مسلمان صرف کہلانے کو ہے کس نے مانا مجھ کو ڈر کرکس نے چھوڑا بغض و کیں زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے کافرو دجّال اور فاسق مجھے سب کہتے ہیں کون ایماں صدق اور اخلاص سے لانے کو ہے جس کودیکھو بدگمانی میں ہی حدسے بڑھ گیا گر کوئی پوچھے تو سو سو عیب بتلانے کو ہے چھوڑتے ہیں دیں کو اور دُنیا سے کرتے ہیں پیار سو کریں وعظ و نصیحت کون پچھتانے کو ہے ہاتھ سے جاتا ہے دل دیں کی مصیبت دیکھ کر پر خدا کا ہاتھ اب اس دل کو ٹھہرانے کو* ہے اس لئے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی ہر طرف یہ آفت جاں ہاتھ پھیلانے کو ہے موت کی رہ سے ملے گی اب تو دیں کو کچھ مدد ورنہ دیں اے دوستو! اک روز مرجانے کو ہے یا تو اِک عالم تھا قرباں اُس پہ یا آئے یہ دن ایک عبد العبد بھی اس دیں کو جھٹلانے کو ہے مشتھرہ۔۹؍مارچ ۱۹۰۶ء *یعنی ہر ایک ملک میں زلزلے آئیں گے اور طاعون پھوٹے گی اور کئی قسم کے موت کے اسباب ظاہر ہونگے۔منہ