حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 48

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۸ حقيقة الوح ہے یعنی بیان کر دیا ہے کہ آپ نے حضرت مسیح کو وفات شدہ انبیاء کی جماعت میں دیکھا ہے پھر با وجود ان دو گواہیوں کے تیسری گواہی خدا سے الہام پا کر میری ہے۔ اگر میرے لئے خدا کے نشان ظاہر نہیں ہوئے اور آسمان اور زمین نے میری گواہی نہیں دی تو میں جھوٹا ہوں لیکن اگر میرے لئے خدا کے نشان ظاہر ہوئے ہیں اور نیز زمانہ نے میری ضرورت کو ظاہر کر دیا ہے تو میرا انکار تیز تلوار کی دھار پر ہاتھ مارنا ہے۔ میرے ہی زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہوا۔ میرے ہی زمانہ میں ملک پر موافق احادیث صحیحہ اور قرآن شریف اور پہلی کتابوں کے طاعون آئی۔ اور میرے ہی زمانہ میں نئی سواری یعنی ریل جاری ہوئی۔ اور میرے ہی زمانہ میں میری پیشگوئیوں کے مطابق خوفناک زلزلے آئے تو پھر کیا تقویٰ کا مقتضانہ تھا کہ میری تکذیب پر دلیری نہ کی جاتی؟ دیکھو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہزاروں نشان میری تصدیق کے ظاہر ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں اور آئندہ ہوں گے اگر یہ انسان کا منصوبہ ہوتا تو اس قدر تائید اور نصرت اس کی ہرگز نہ ہوتی اور یہ امر انصاف اور ایمان کے برخلاف ہے کہ ہزاروں نشانوں میں سے جو ظہور میں آچکے صرف ایک یا دو امرلوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے پیش کرنا کہ فلاں فلاں پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اے نادانو ! اور عقل کے اندھو! اور انصاف اور دیانت سے دور رہنے والو! ہزار ہا پیشگوئیوں میں سے اگر ایک یا دو پیشگوئیوں کا پورا ہونا تمہاری سمجھ میں نہیں آسکا تو کیا تم اس عذر سے خدا تعالی کے سامنے معذور ٹھہر جاؤ گے یہ تو بہ کرو کہ خدا کے دن نزدیک ہیں اور وہ نشان ظاہر ہونے والے ہیں جو زمین کو ہلا دیں گے۔ حمد اگر خدا تعالی کے نشانوں کو جو میری تائید میں ظہور میں آچکے ہیں آج کے دن تک شمار کیا جائے تو وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے پھر اگر اس قدر نشانوں میں سے دو تین نشان کسی مخالف کی نظر میں مشتبہ ہیں تو اُن کی نسبت شور مچانا اور اس قدر نشانوں سے فائدہ نہ اٹھانا کیا ہی ان لوگوں کا تقویٰ ہے کیا انبیاء کی پیشگوئیوں میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی ؟مند