حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 49

۴۹ روحانی خزائن جلد ۲۲ یہ تو خدا کے نشان ہیں جو میں پیش کرتا ہوں مگر تم سوچو کہ اس مخالفت میں تمہارے ہاتھ میں کونسی دلیل ہے بجز اس کے کہ ایسی حدیثیں پیش کرتے ہو جن کے مخالف قرآن شریف گواہی دیتا ہے اور جن کے مخالف حدیثیں بھی موجود ہیں اور جن کے مخالف واقعات اپنا چہرہ دکھلا رہے ہیں۔ وہ دجال کہاں ہے؟ جس سے تم ڈراتے ہو مگر لَا الضَّالِّينَ والا دجال دن بدن دنیا میں ترقی کر رہا ہے اور قریب ہے کہ آسمان وزمین اس کے فتنہ سے پھٹ جائیں۔ پس اگر تمہارے دلوں میں خدا کا خوف ہوتا تو سورۃ فاتحہ پر غور کرنا ہی تمہارے لئے کافی تھا۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جو کچھ تم نے مسیح موعود کی پیشگوئی کے معنی سمجھے ہیں وہ صحیح نہ ہوں ۔ کیا ان غلطیوں کے نمونے یہود اور نصاری میں موجود نہیں ہیں پھر تم کیونکر غلطی سے بیچ سکتے ہو۔ اور کیا خدا کی یہ عادت نہیں ہے کہ کبھی وہ ایسی پیشگوئیوں سے اپنے بندوں کا امتحان بھی لیا کرتا ہے جیسا کہ توریت اور ملا کی نبی کی پیشگوئی سے اور انجیل کی پیشگوئی سے یہود و نصاری کو امتحان میں ڈالا گیا۔ سو تقوی کے دائرہ سے باہر قدم مت رکھو کیا جیسا کہ یہود نے اور اُن کے نبیوں نے سمجھا تھا آخری نبی بنی اسرائیل میں سے آیا یا الیاس نبی دوبارہ زمین پر آگیا ؟ ہر گز نہیں بلکہ یہود نے دونوں جگہ غلطی کھائی ۔ پس تم ڈرو کیونکہ خدا تعالیٰ تمہیں سورہ فاتحہ میں ڈراتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم یہود بن جاؤ۔ یہود بھی تمہارے دعوے کی طرح ظاہر الفاظ کتاب اللہ سے متمسک تھے مگر بوجہ اس کے کہ حکم کی بات کو انہوں نے نہ مانا اور اُس کے نشانوں سے کچھ فائدہ نہ اُٹھا یا مواخذہ میں آگئے اور اُن کا کوئی عذر سنا نہ گیا۔ یہ نکتہ بھی یادر رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسی علیہ السلام سے (۲۷) ساتویں صدی پر مبعوث ہوئے تھے کیونکہ خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ ساتویں صدی تک بہت سی گمراہی عیسائیوں اور یہودیوں میں پیدا ہو گئی تھی۔ سوخدا تعالیٰ نے دونوں قوموں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور حکم مبعوث فرمایا مگر جو مسلمانوں کے لئے حکم مقدر تھا اُس کے ظہور کی میعاد پہلی میعاد سے دو چند کی گئی یعنی چودھویں صدی ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عیسائی تو صرف ساتویں تک بگڑ گئے مگر مسلمانوں کی حالت میں اس مدت کے