حقیقةُ الوحی — Page 45
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۵ حقيقة الوح اب آخری زمانہ میں اس نے قید سے پوری رہائی پائی ہے اور اُس کی مشکیں کھولی گئی ہیں تا جو جو حملے کرنا اُس کی تقدیر میں ہے کر گذرے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ دجال نوع انسان میں سے نہیں بلکہ شیطان کا نام تجھے اور بعض حضرت عیسی کی نسبت خیال رکھتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے اور بعض فرقے مسلمانوں کے جنہیں معتزلہ کہتے ہیں حضرت عیسی کی موت کے قائل ہیں اور بعض صوفیوں کا قدیم سے یہ مذہب ہے کہ مسیح آنے والے سے مراد کوئی (۲۳) امتی انسان ہے کہ جو اس امت میں سے پیدا ہوگا۔ اب ذرا غور کر کے دیکھ لو کہ مسیح اور مہدی اور دجال کے بارے میں کس قدر اس اُمت میں اختلاف موجود ہے اور بموجب آیت كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ہر ایک اپنے عقیدہ کی نسبت اجماع کا دعوی کر رہا ہے پس اصل بات یہ ہے کہ جب کسی شریعت میں بہت سے اختلاف پیدا ہو جائیں تو وہی اختلافات طبعا چاہتے ہیں کہ اُن کے تصفیہ کے لئے کوئی شخص خدا کی طرف سے آوے کیونکہ یہی قدیم سے سنت اللہ ہے۔ جب یہودیوں میں بہت سے اختلاف پیدا ہوئے تو اُن کے لئے حضرت عیسی حکم بن کر آئے ۔ اور جب عیسائیوں اور یہودیوں کے باہمی تنازعات بڑھ گئے تو اُن کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم مقرر ہوکر مبعوث ہوئے۔ اب اس زمانہ میں دنیا اختلافات سے بھر گئی۔ ایک طرف یہودی کچھ کہتے ہیں اور عیسائی کچھ ظاہر کرتے ہیں اور اُمت محمدیہ میں الگ باہمی اختلافات ہیں۔ اور دوسرے مشرکین سب کے برخلاف رائیں ظاہر کرتے ہیں اور اس قدر نئے مذاہب اور نئے عقائد پیدا ہو گئے ہیں کہ گویا ہر ایک انسان ایک خاص مذہب رکھتا ہے۔ اس لئے بموجب سنت اللہ کے ضروری تھا کہ حماس شیطان کا نام دوسرے لفظوں میں عیسائیت کا بھوت ہے یہ بھوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائی گر جا میں قید تھا اور صرف جنا سہ کے ذریعہ سے اسلامی اخبار معلوم کرتا تھا۔ پھر قرون ثلاثہ کے بعد بموجب خبر انبیاء علیہم السلام کے اس بھوت نے رہائی پائی اور ہر روز اس کی طاقت بڑھتی گئی یہاں تک کہ تیرھویں صدی ہجری میں بڑے زور سے اُس نے خروج کیا اسی بھوت کا نام دجال ہے جس نے سمجھنا ہو سمجھ لے اور اسی بھوت سے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے اخیر میں وَلَا الضَّالِّينَ کی دعا میں ڈرایا ہے۔ منہ الروم :٣٣