حقیقةُ الوحی — Page 46
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۶ حقيقة ان سب اختلافات کا تصفیہ کرنے کے لئے کوئی حکم آتا۔ سواسی حکم کا نام مسیح موعود اور مہدی مسعود رکھا گیا یعنی باعتبار خارجی نزاعوں کے تصفیہ کے اس کا نام مسیح ٹھیرا اور باعتبار اندرونی جھگڑوں کے فیصلہ کرنے کے اس کو مہدی معہود کر کے پکارا گیا۔ اگر چہ اس بارے میں سنت اللہ اس قدر تواتر تھی کہ کچھ ضرور نہ تھا کہ حدیثوں کے ذریعہ سے یہ ظاہر کیا جاتا کہ ایک شخص حَكَمْ ہو کر آئے گا جس کا نام مسیح ہو گا لیکن حدیثوں میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ وہ مسیح موعود جو اسی اُمت میں سے ہو گا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا یعنی جس قدر اختلاف داخلی اور خارجی موجود ہیں اُن کو دور کرنے کے لئے خدا اُسے بھیجے گا ۔ اور وہی عقیدہ سچا ہوگا جس پر وہ قائم کیا جائے گا کیونکہ خدا اُسے راستی پر قائم کرے گا اور وہ جو کچھ کہے گا بصیرت سے کہے گا اور کسی فرقہ کا حق نہیں ہو گا کہ اپنے عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے اس سے بحث کرے کیونکہ اُس زمانہ میں مختلف عقائد کے باعث منقولی مسائل جن کی قرآن شریف میں تصریح نہیں مشتبہ ہو جائیں گے اور بباعث کثرت اختلافات تمام اندرونی طور پر جھگڑنے والے یا بیرونی طور پر اختلاف کرنے والے ایک حکم کے محتاج ہوں گے جو آسمانی شہادت سے اپنی سچائی ظاہر کرے گا جیسا کہ حضرت عیسی کے وقت میں ہوا اور پھر بعد اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوا سو آخری موعود کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس جگہ اس سنت اللہ کو بھی یا درکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کوئی پیشگوئی کسی عظیم الشان مرسل کے آنے کے لئے ہوتی ہے اس میں ضرور بعض لوگوں کے لئے ایک ابتلا بھی مخفی ہوتا ہے جیسا کہ حضرت عیسی کے لئے یہود کی کتابوں میں پیشینگوئی کی گئی تھی کہ وہ اُس وقت آئے گا جبکہ الیاس نبی دوبارہ آسمان سے نازل ہوگا۔ یہ پیشگوئی ملا کی نبی کی کتاب میں اب تک موجود ہے۔ پس یہ پیشگوئی یہودیوں کے لئے بڑی ٹھوکر کا باعث ہوئی اور وہ اب تک منتظر ہیں کہ الیاس نبی آسمان سے نازل ہوگا اور ضرور ہے کہ وہ پہلے نازل ہو اور پھر اُن کا سچا مسیح آئے گا مگر اب تک نہ الیاس دوبارہ زمین پر نازل ہوا اور نہ ایسا مسیح آیا جو اس شرط کو پوری کرتا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توریت میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ یہودیوں کے