حقیقةُ الوحی — Page 608
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۰۸ تتمه ۱۶۸ مسمى سومراج اور اچھر مل اور بھگت رام نے قادیان میں ایک اخبار نکالا اور اُس کا نام شجھ چنتک رکھا اور اُس میں گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا اپنا فرض سمجھا مگر خدا نے ایک مدت سے کئی بار مجھے خبر دے رکھی تھی کہ آریہ سماج کی عمر اب خاتمہ پر ہے چنانچہ میں نے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین کے صفحہ ۶۶ میں جو ۶ ارا کتوبر ۱۹۰۳ء میں شائع ہوئی تھی خدا تعالیٰ سے الہام پا کر پیشگوئی مندرجہ ذیل جو صفحہ ۶۶ کی سطرے و۸ میں ہے شائع کی تھی۔ اور وہ یہ ہے وہ مذہب ( یعنی آریہ مذہب) مُردہ ہے اس سے مت ڈرو۔ ابھی تم میں سے لاکھوں اور کروڑں انسان زندہ ہوں گے کہ اس مذہب آریہ کو نا بود ہوتے دیکھ لوگے۔ اسی طرح میں نے اپنی کتاب نسیم دعوت کے صفحہ ۴ و ۵ میں جو آریوں کے مقابل پر ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء کو لکھی گئی مندرجہ ذیل پیشگوئی آریوں کے حق میں کی تھی اور وہ یہ ہے۔ ہر ایک جوش محض قوم اور سوسائٹی کے لئے دکھلاتے ہیں خدا کی عظمت ان لوگوں کے دلوں میں نہیں ۔۔۔ قادیان کے آریہ خیال کرتے ہیں کہ ہم طاعون کے پنجہ سے رہائی یاب ہو گئے ہیں مگر کیا یہ بدزبانیاں اور بے ادبیاں خالی جائیں گی؟ سنو اے غافلو! ہمارا اور اُن راست بازوں کا تجربہ ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ خدا کے پاک رسولوں کی بے ادبی کرنا اچھا نہیں۔ خدا کے پاس ہر ایک بدی اور شوخی کی سزا ہے۔ اور پھر میں نے اپنی کتاب قادیان کے آریہ اور ہم میں جو ۲۰ فروری ۱۹۰۷ء کو شائع ہوئی ہے اس کے صفحہ ۲۱ ۲۲۰ میں یہ پیشگوئی شائع کی تھی۔ یہ لوگ نبیوں کی تکذیب میں جن کی سچائی سورج کی طرح چمکتی ہے حد سے بڑھ گئے ہیں خدا جو اپنے بندوں کے لئے غیرت مند ہے ضرور اس کا فیصلہ کرے گا۔ وہ ضرور اپنے پیارے نبیوں کے لئے کوئی ہاتھ دکھلائے گا۔ پھر میں نے اسی رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم کی نظم میں یعنی صفحہ ۴ ۵ میں یہ پیشگوئی کی ہے۔ شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں ان کے ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ تو انا اُس نے ہے کچھ دکھانا اس سے رجا یہی ہے اس پیشگوئی کا ماحصل یہی ہے کہ خدا ان لوگوں کو کوئی ہاتھ دکھائے گا۔ پھر اسی کتاب کے ٹائٹل پیج کے صفحہ ۲ میں یہ شعر ہے ۔ میرے مالک تو ان کو خود سمجھا آسماں سے پھر اک نشاں دکھلا