حقیقةُ الوحی — Page 571
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۷۱ تتمه ۔ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی ۔ پس وہ خدا جس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ڈال دے۔ غرض بے حیا لوگ ان اعتراضوں کے وقت نہیں سوچتے کہ ایسے اعتراض سب نبیوں پر پڑتے ہیں۔ نمازیں بھی پہلے پہچاش نماز میں مقرر ہو کر پھر پانچ رہ گئیں اور توریت پڑھ کر دیکھو صدہا مرتبہ خدا کے قرار دادہ عذاب حضرت موسیٰ کی شفاعت سے منسوخ کئے گئے ایسا ہی یونس کی قوم پر آسمان پر جو ہلاکت کا حکم لکھا گیا تھا وہ حکم ان کی تو بہ سے منسوخ کر دیا گیا اور تمام قوم کو عذاب سے بچا لیا گیا۔ اور بجائے اس کے حضرت یونس خود سخت مصیبت میں پڑ گئے کیونکہ اُن کو یہ خیال دامنگیر ہوا کہ پیشگوئی قطعی تھی اور خدا کا ارادہ عذاب نازل کرنے کا مصمم تھا۔ افسوس کہ یہ لوگ یونس کے قصہ سے بھی کچھ سبق حاصل نہیں کرتے۔ اُس نے نبی ہو کر محض اس خیال سے سخت مصیبتیں اٹھا ئیں کہ خدا کا قطعی ارادہ جو آسان پر قائم ہو چکا تھا کیوں کر فسخ ہو گیا ہے اور خدا نے تو بہ پر ایک لاکھ آدمی کی جان کو بچالیا اور یونس کے منشاء کی کچھ بھی پروانہ کی۔ کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا یہ مذہب ہے کہ خدا اپنے ارادوں کو بدلا نہیں سکتا اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی کو ٹال نہیں سکتا مگر ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ ٹال سکتا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہے گا اور ہم ایسے خدا پر ایمان ہی نہیں لاتے کہ جو بلا کو تو بہ اور استغفار سے رد نہ کر سکے اور تضرع کرنے والوں کے لئے اپنے ارادوں کو بدل نہ سکے وہ ہمیشہ بدلتا رہے گا یہاں تک کہ پہلی آسمانی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کی صف پندرہ دن کی عمرہ گئی تھی خا نے اس کی تضرع اور گریہ وزاری سے بجائے پندرہ دن کے پندرہ سال کر دیئے یہی ہمارا ذاتی تجربہ ہے ایک خوفناک پیشگوئی (۱۳۴) ہوتی ہے اور دعا سے مل جاتی ہے۔ پس اگر ان لوگوں کا فرضی خدا ان باتوں پر قادر نہیں تو ہم اُس کو نہیں مانتے۔ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جس کی صفت قرآن شریف میں دیکھی ہے کہ اَلَمْ تَعْلَمُ انَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ ے اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی ملنے کے بارہ میں تمام نبی متفق ہیں رہی وعدہ کی پیشگوئی جس کی نسبت یہ حکم ہے کہ ان اللہ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ے اس کی نسبت البقرة: ١٠٧ ۱۵ ال عمران: ۱۰ ۱۵