حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 572 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 572

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۷۲ تتمه بھی ہمارا یہ ایمان ہے کہ خدا اس وعدہ کا تخلف نہیں کرتا جو اُس کے علم کے موافق ہے لیکن اگر انسان اپنی غلطی سے ایک بات کو خدا کا وعدہ سمجھ لے جیسا کہ حضرت نوح نے سمجھ لیا تھا ایسا تخلف وعدہ جائز ہے کیونکہ دراصل وہ خدا کا وعدہ نہیں بلکہ انسانی غلطی نے خواہ نخواہ اُس کو وعدہ قرار دیا ہے اسی کے متعلق سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں قد يوعد ولا یوفی یعنی کبھی خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور اُس کو پورا نہیں کرتا۔ اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ اس وعدہ کے ساتھ مخفی طور پر کئی شرائط ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر واجب نہیں کہ تمام شرائط ظاہر کرے پس اس جگہ ایک کچا آدمی ٹھوکر کھا کر منکر ہو جاتا ہے اور کامل انسان اپنے جہل کا اقرار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی لڑائی کے وقت باوجود یکہ فتح کا وعدہ تھا بہت روروکر دعا کرتے رہے اور جناب الہی میں عاجزانہ یہ مناجات کی کہ اللَّهُمَّ إِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا کیونکہ آپ اس سے ڈرتے تھے کہ شاید اس وعدہ کے اندر کوئی مخفی شرائط ہوں جو پوری نہ ہوسکیں ۔ ہر کہ عارف ترست ترساں تر ۔ ا ایسا ہی بابو صاحب کا ایک یہ بھی اعتراض تھا کہ لڑکا پیدا ہونے کی پیشگوئی کی تھی مگر لڑکی پیدا ہوئی مگر وہ جانتے ہیں کہ لڑکی کا وجود عدم کی طرح تھا کیونکہ بعد اس کے وہ مر گئی اور اس کے بعد ایک لڑکا بھی مر گیا۔ پھر بعد اس کے خدا نے متواتر چارلٹ کے دیئے جو اُس کے یہ عادت اللہ قدیم سے جاری ہے کہ اس کی پیشگوئیوں میں کوئی حصہ متشابہات کا ہوتا ہے اور کوئی بینات کا اور کبھی بعض پیشگوئیاں صرف متشابہات کے رنگ میں ہوتی ہیں اور ایک جاہل آدمی صرف متشابہات پر نظر رکھ کر پیشگوئی کی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اگر کوئی پیشگوئی جو متشابہات میں سے ہے مہم کے خیال کے مطابق ظہور میں نہ آوے تو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ جھوٹی نکلی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مہم کے اپنے خیال میں غلطی ہوئی جیسا کہ حدیث ذَهَبَ وَهْلِي اس پر شاہد حال ہے ہاں برگزیدوں کی پیشگوئیوں میں متشابہات کم ہوتے ہیں اور بینات زیادہ مگر ہوتے ضرور ہیں تا خدا اس سے صالح اور فاسق کا امتحان کرے اور خدا کے برگزیدہ کثرت بینات سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کی پیشگوئیاں متشابہات سے بالکل پاک ہوتی ہیں ۔ منہ * یعنی اے میرے خدا اگر تو نے اس گروہ کو ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر کوئی تیری پرستش نہیں کرے گا۔