حقیقةُ الوحی — Page 561
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۱ تتمه اور کاذب کون ہے اور اس شخص کو ہم (یعنی مجھ کو ) پراگندہ غبار کی طرح کر دیں گے یعنی ہلاک کر دیں گے مگر اے الہی بخش تم پر سلامتی ہے تمہارے لئے خدا نے رحمت لکھی ہے تم ہلاکت سے بچھو ہے ۔ اب سوچنے والے سوچ لیں کہ آخر انجام کیا ہوا ؟ کیا وہ تباہی جو میری نسبت با بوصاحب کا الہام بتا تا ہے وہ انہیں پر آئی ہے یا نہیں؟ پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ ان کو الہام ہوا یا نَارُ كُوْنِيْ بَردًا وَّسَلَامًا یعنی اے آگ ٹھندی ہو جا اور سلامتی ہو جا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کون سی آگ اُن پر ٹھنڈی ہو گئی صرف طاعون کی آگ اُن پر نازل ہوئی تھی سو وہ تو ٹھنڈی نہ ہوئی اور اُن کا کام ایک دن میں تمام کر گئی ۔ صد با آدمی لاہور میں طاعون میں مبتلا ہو کر آخر ا چھے ہو گئے مگر یہ لہم صاحب (۱۳۵) جانبر نہ ہو سکے اور بے وقت موت نے ہزاروں حسرتوں کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کرا دیا۔ اب وہ تو اس جہان کو چھوڑ گئے صرف اُن کے دوستوں کے لئے محض اللہ لکھنا پڑا ہے کیونکہ بابو صاحب کی موت کے بعد مجھ کو یہ الہام ہوا تھا فتنا بعضهم من بعض یعنی ہم نے الہی بخش کی موت سے اُن کے دوستوں کا امتحان کرنا چاہا ہے کہ کیا وہ اب بھی سمجھتے ہیں یا نہیں ۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ بابو الہی بخش صاحب میرے مقابل پر ایک بڑی سختی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور کوئی دقیقہ انہوں نے تحقیر اور تو ہین کا اٹھا نہیں رکھا تھا اور لوگوں کو انہوں نے اپنی کتاب سے گمراہ کیا تھا اور ہر روز میری موت اور تباہی کے منتظر تھے اور اپنے دوستوں کو صد ہا الہامات اس قسم کے سنایا کرتے تھے اور خاص کر طاعون سے میری موت اپنی کتاب میں شائع کی تھی۔ پھر یہ کیا ہوا کہ وہ خود طاعون سے نامرادی کے ساتھ مر گئے یہ خوب بیچنا ہے کہ مرے بھی تو طاعون سے مرے۔ بابو صاحب کے دوستو! سچ کہو کہ کیا تمہاری یہی مراد تھی کہ بابو صاحب میری زندگی میں ہی جس کی موت اور تباہی کے منتظر تھے طاعون سے مرجائیں۔ اُن کے صدہا الہاموں سے جو میرے ہلاک ہونے کے بارے میں تھے میرا کیا نقصان ہوا۔ یہ کیا بات ہوگئی کہ اُن کے الہاموں کی بجلی انہیں پر گر گئی۔ کیا کوئی ہے کہ اس کا جواب دے ؟ منه ☆