حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 559 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 559

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۵۹ تتمه اب ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ تمام الہام اُن کے طاعونی موت نے باطل کر دیئے ہیں۔ کیا ملاح ایسے لوگوں کو کہہ سکتے ہیں کہ جو آپ ہی غرق ہو جائیں جس حالت میں دوسروں کو غرق کرنے کا وعدہ تھا جو اُن کے مخالف ہیں یعنی یہی عاجز تو پھر یہ کیسے ملاح اور کیسی اُن کی کشتی تھی اور یہ کس قسم کا الہام تھا جو اُلٹا انہیں پر وارد ہو گیا۔ پھر بابو صاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۱۸۶ میں لکھتے ہیں جس خدمت پر مرزا صاحب فخروناز فرماتے ہیں اُس کی کیفیت تو الہام قل هل أنبئكم بالاخسرين اعمالا میں گذر چکی ہے۔ یعنی ان کے تمام اعمال باطل اور ٹوٹے میں پڑے ہوئے ہیں اور صفحہ ۲۰۱ میں میری نسبت ۱۲۳ فرماتے ہیں کہ میرزا صاحب جلدی نہ فرماویں امید واثق اور یقین کامل ہے کہ سنت اللہ کے موافق سرکش متمرد بیچو من دگرے نیست کہنے والے کو انشاء اللہ ضرور نا کامی اور شکست ہوگی ۔ اب ناظرین اس کا جواب دیں کہ یہ کلمہ تو منشی صاحب کا میری نسبت تھا مگر کیا خدا نے اُن کے قول کے موافق مجھے نا کامی اور شکست کی حالت میں موت دی یا با بوالہی بخش صاحب کو ۔ میں اس سے زیادہ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ اب وہ دنیا سے گذر چکے ہیں ہے۔ پھر صفحہ ۲۰۲ میں منشی الہی بخش صاحب لکھتے ہیں۔ بلعم نے اوّل بد دعا کرنے سے انکار کیا۔ پھر اُس کی قوم نے ہدیہ دے کر اُس کو فتنہ میں ڈالا ۔ غرض اس کی ہلاکت کے یہی اسباب تھے۔ پھر جس شخص کے حالات بلعم کے حالات سے مشابہ ہیں جو حقوق تلف کرتا اور جھوٹے دعوے کرتا ہے اس شخص کے لئے یہ قصہ قابل عبرت ہے۔ یہ خلاصہ ہے اُن کی تقریر کا مگر افسوس کہ بابو صاحب کو اس طرف توجہ نہ ہوئی کہ جو شخص بغیر کامل تحقیق کے اعتراض کرتا ہے اور ایسے شخص کو جو خدا کے نزدیک معذور اور بری ہے (جس نے در حقیقت کوئی حق تلفی نہیں کی اور نہ کوئی جھوٹا دعویٰ کیا ) بغیر کسی ثبوت کامل کے مفتری قرار دیتا ہے اور دجال ٹھیراتا ہے اور خدا کے نشان جو بارش بعض نادان میرا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ اگر الہی بخش نامراد مر گیا تو آپ کی مراد میں کب پوری ہوگئی ہیں لیکن نہیں سوچتے کہ میں تو اب تک زندہ ہوں اور میری مرادیں دن بدن پوری ہورہی ہیں لیکن با بوصاحب تو فوت ہو چکے ہیں اور ان کا عصائے موسیٰ ٹوٹ کر انہیں پر پڑا۔منہ