حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 558 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 558

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۵۸ تتمه إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه یعنی ایسا کوئی اہل کتاب نہیں جو اپنی موت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت عیسی پر ایمان نہ لاوے۔ اور تفاسیر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کو یہ (۱۲۲) الہام اُس وقت ہوتا ہے جب وہ جان کندن کی حالت میں ہوتے ہیں یا موت کا وقت بہت قریب ہوتا ہے اور اب ظاہر ہے کہ وہ تبھی ایمان لاتے ہیں جب اُن کو منجانب اللہ الہام ہوتا ہے کہ فلاں رسول سچا ہے مگر اس الہام سے وہ خدا کے برگزیدہ نہیں ٹھہر سکتے اور خدا تعالیٰ کی سنت اسی طرح جاری ہے کہ موت کے قریب اکثر لوگوں کو کوئی خواب یا الہام ہو جاتا ہے ۔اس میں کسی مذہب کی خصوصیت نہیں اور نہ صالح اور نیکو کار ہونے کی شرط ہے۔ پھر با بو الہی بخش صاحب اپنی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۱۸۰ میں لکھتے ہیں کہ کشتی کا ملاح بنے کا الہام بھی عاجز کو ہوتا ہے اور کشتی کی تیاری کا حکم بھی الہاما ہو کر پھر الہام ہوا۔ بسم الله مجريها و مُرساها ان ربي لغفور رحیم پھر الہام ہوا۔ ان الذین ظلموا ان هم المغرقون جس کے ظہور کی قادر کے فضل و کرم سے امید واثق ہے۔ یہ بھی الہام بہت دفعہ ہوا ہے۔ساریھم آیاتی فلا تستعجلون۔ اس الہام کے یہ معنی ہیں کہ وہی ملاح ہیں جو پار اُتاریں گے اور اُن کی کشتی میں بیٹھنے والے نجات پائیں گے۔ پھر میری طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار نہیں ہوئے یعنی یہ عاجز وہ ظالم ہیں اور وہ غرق کئے جائیں گے ۔ اور فرماتے ہیں کہ یہ بھی کئی دفعہ مجھے الہام ہوا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اپنے نشان ان مخالفوں کو دکھلاؤں گا وہ مجھ سے جلدی نہ کریں۔ ایک طرف تو با بو الہی بخش صاحب لکھتے ہیں کہ میں اپنے الہامات کو یقینی نہیں سمجھنا ممکن ہے کہ شیطانی ہوں پھر ایسے الہاموں پر امید واثق بھی ہے تعجب کہ اسی مایہ کے ساتھ حد سے بڑھ کر درندگی اختیار کی اور تعجب کہ دوسروں کے غرق کرنے کے لئے تو الہام ہوا مگر آپ ہی اس الہام کے مصداق ہو گئے اور بابو صاحب کا یہ الہام کہ عنقریب میں اپنے نشان دکھلاؤں گا مجھ سے جلدی مت کرو۔ سو ہم جانتے ہیں کہ یہ الہام بابو صاحب کی موت سے پورا ہو گیا گو اُن کی موت اُن کے لئے نشان نہیں مگر ہمارے لئے نشان ہے۔ منہ ل النساء : ١٦٠