حقیقةُ الوحی — Page 557
روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه ۔ وہ طاعون میں مبتلا ہو گئے اور ہر روز صد با آدمیوں کی موت دیکھ کر اس مرض کا انجام سامنے آگیا تب اس وقت بابو صاحب کو الرحیل کا الہام ہوا جو عصائے موسیٰ کے تمام الہاموں پر پانی پھیرتا ہے مگر اگر فرض کے طور پر اس کو الہام بھی سمجھا جاوے تو یہ رحمت کا الہام نہیں بلکہ غضب کا الہام ہے جو سخت نا مرادی پر مشتمل ہے اور نیز پہلے الہاموں کا کذب ظاہر کرتا ۱۲۱ ہے اور ایسا الہام کچھ تعجب کی جگہ نہیں کیونکہ اکثر لوگ جب کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جانبری سے نومیدی ہوتی ہے تو اس وقت ایسے الہام یا ایسی خوا ہیں آیا کرتی ہیں مومن غیر مومن سب اس میں شریک ہیں۔ پس اس صورت میں الہام کے یہ معنی ہوں گے کہ اے الہی بخش تو تو اپنی عمر لمبی قرار دیتا تھا اور اپنے فریق مخالف کی تباہی چاہتا تھا اور اپنی حدیث النفس کو الہام الہی سمجھ کر یہ کہتا تھا کہ میرا مخالف میری زندگی میں طاعون سے مرے گا مگر ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ تو اس دنیا سے کوچ کر ۔ غرض مجھے اس الہام کی سچائی پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ممکن ہے کہ ہوا ہو جس میں غضب کے طور پر یہ تنبیہ ہو کہ اب تیرا دنیا سے کوچ کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ تو نے حق کو قبول نہیں کیا۔ ان لوگوں کی عقل پر مجھے تعجب آتا ہے کہ الہی بخش کی طرف الرحیل کا الہام منسوب کر کے اُس کے تمام الہاموں کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ وہ تمام الہام اُس کے کہاں گئے جن پر بھروسہ کر کے وہ مجھے کا فر اور دجال کہتا تھا اور اپنا نام موسیٰ رکھتا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ تمام الہام اُس کے اضغاث احلام اور حدیث النفس تھے اور نیز شیطانی وساوس تھے اس لئے وہ پورے نہ ہو سکے بلکہ اُس کی ذلت اور بے عزتی کا موجب ہوئے۔ ہاں ممکن ہے کہ الرحيل خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو کیونکہ یہ فقرہ انذار اور تنبیہ کے طور پر ہے اور ایسے الہام کا دعویٰ اگر فرعون بھی کرتا تو ہمیں انکار کی وجہ نہ تھی کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ بغیر امتیاز موحد اور مشرک اور صالح اور فاسق اور صادق اور کاذب کے ہر ایک کو ایسے الہام اُس کے آخری وقت میں ہو سکتے ہیں اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے وَاِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ |