حقیقةُ الوحی — Page 556
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۵۶ تتمه ۔ اے عزیز و! اس قدر کیوں ہو گئے تم بے حیا کلمہ گو ہو کچھ تو لازم ہے تمہیں خوف خدا یہ الہام بابو صاحب کا جس میں وہ میری نسبت لکھتے ہیں کہ وہ شخص کا فر مرے گا اور ملاعنہ کا بد انجام اُسی کی طرف اُلٹایا جائیگا۔ اس کے سر پر اُسی صفحہ ۱۵۲ میں یہ ان کی عبارت ہے۔ اس ۱۲۰ رات مرزا صاحب کے انجام اور اُن کے زیر مشن غریب مسلمانوں کی نسبت یہ الہام ہوا ہے۔ اور پھر صفحہ ۱۷۲ میں اُن کا یہ الہام ہے یہ عمدہ اور خوشی کی بات ہے کہ اس امر کا فیصلہ ہو جائے کہ حق مرزا صاحب کی طرف ہے۔ پھر صفحہ ۱۷۳ عصائے موسیٰ میں اُن کا ایک الہام مع اُن کی تمہیدی عبارت کے یہ ہے۔ اور عاجز کو الہاماً یہ دعا بھی تعلیم ہوتی ہے اللهم افتح بيننا و بين قومنا بالحق وانت خير الفاتحین اس کے معنی وہ یہ کرتے ہیں کہ مجھ میں اور اُن میں یعنی اس عاجز میں خدا تعالیٰ فیصلہ کرے۔ اب جو فیصلہ ہو گیا وہ کسی پر مخفی نہیں۔ عجیب بات ہے کہ اُن کی تمام کتاب انہیں الہاموں سے بھری ہوئی ہے کہ اُن کی زندگی میں میرا استیصال ہو جائے گا اور تمام جماعت منتشر ہو جائے گی اور مباہلہ کا بداثر میرے پر پڑے گا اور وہ نہیں مریں گے جب تک میرا زوال نہ دیکھ لیں۔ اور پھر اُن کے دوست کہتے ہیں کہ جب وہ طاعون میں مبتلا ہوئے تو اُن کو یہ الہام ہوا کہ الرحیل یعنی اب تو دنیا سے کوچ کرے گا۔ کون شخص ہے جو اس مہلک بیماری کے وقت اُس کا دل الرحیل نہیں بولتا۔ طاعون کے معنی خود زبان عرب میں موت ہے۔ ناظرین خود سوچ لیں ہم کچھ نہیں کہتے کہ پہلے تو با بو الہی بخش کا ان الہامات پر زور دینا کہ میری عمر بڑی لمبی ہوگی جیسا کہ طول حیات اور طول بقاء اُن کے الہام میں درج ہے اور پھر یہ کہ اُن کی لمبی عمر سے مومنوں کو بہت فائدے حاصل ہوں گے اور پھر یہ الہام کہ وہ نہیں مریں گے جب تک طاعون سے میری موت نہ دیکھ لیں اور میری بکلی تباہی مشاہدہ نہ کر لیں اور پھر یہ الہام کہ اُن کے دنیا میں بھی بڑے بڑے عروج ہوں گے اور ایک دنیا ان کی طرف رجوع کرے گی اور وہ بساتین اور باغوں کے مالک ہوں گے اور اُن کے ذریعہ سے اسلام کی بڑی ترقی ہوگی۔ یہ تو پہلے الہام تھے جن سے اُن کی کتاب عصائے موسیٰ بھری پڑی ہے پھر جب