حقیقةُ الوحی — Page 555
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۵۵ تتمه پھر اگر یہ بات سچ ہے کہ بلا تو بہ واستغفار اور صدقہ و خیرات سے مل سکتی ہے تو پھر ایسی پیشگوئی کیوں نہیں مل سکتی جس کی خبر کسی مامور من اللہ کے ذریعہ سے دی گئی ہو اور علاوہ اس کے دشمن نادان نہیں جانتے کہ اگر چہ عذاب کی پیشگوئیوں میں کسی شرط کی ضرورت نہیں ہوتی وہ محض تو بہ اور استغفار سے مل سکتی ہیں مگر تا ہم انھم اور احمد بیگ اور اُس کے داماد کی نسبت شرطی پیشگوئیاں (19) تھیں یعنی یہ لکھا گیا تھا کہ اس شرط سے بلا وارد ہو گی کہ وہ لوگ سرکشی پر قائم رہیں اور رجوع نہ کریں۔ سو آتھم نے اپنی خاموشی اور نہ قسم کھانے اور نہ نالش کرنے اور اسلام پر کوئی حرف زنی نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ اُس نے سرکشی کی خصلت کو چھوڑ دیا ہے اور نیز اس نے ساٹھ یا ستر آدمیوں کے رو بروعین مباحثہ کے وقت میں زبان نکال کر اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر اپنے رجوع کا اقرار کر دیا جس سے کوئی منکر نہیں ہو سکتا ۔ اور اُس وقت حاضرین نہ صرف مسلمان ۱۵ تھے بلکہ نصف کے قریب عیسائی تھے اور معتبر شہادتوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ پندرہ مہینہ تک روتا رہا تو کیا اب تک رجوع اُس کا ثابت نہ ہوا ؟ اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت اس قدر بیان کرنا کافی ہے کہ وہ پیشگوئی دوشاخیں رکھتی تھی۔ ایک شاخ احمد بیگ کے متعلق تھی اور دوسری شاخ اُس کے داماد کے متعلق تھی ۔ سواحمد بیگ اور اُس کے مرنے کا صدمہ اُس کے اقارب کا غرور اور تکبر تو ڑ گیا اور وہ میعاد کے اندر مر گیا۔ بیگانوں اور نا واقفوں کو کیا خبر ہے کہ اُس کی موت کی وجہ سے اُس کے دوسرے عزیزوں پر کیا مصیبت آئی۔ اور اس مصیبت نے ان کو کیا سبق دیا اور کس غم نے اُن کو گھیر لیا۔ آخر یہ نتیجہ ہوا کہ مرزا محمود بیگ جن کے گھر میں یہ رشتہ ہوا تھا اور جو تمام خاندان کا سرگروہ تھا ہمارے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گیا۔ اب اگر ان تمام باتوں کو سن کر بھی کوئی بکواس سے باز نہ آئے تو اُس کا علاج ہم کیا کریں۔ ایسے سیاہ دل کو جو حیا اور شرم سے دست بردار ہے ہم کس طرح قائل کر سکتے ہیں اور اس کے تعصب کی بیماری کا کیا علاج کر سکتے ہیں بجز اس کے کہ خدا ہی اس کا علاج کرے۔ کیا تضرع اور تو بہ سے نہیں ٹلتا عذاب کس کی یہ تعلیم ہے دکھلاؤ تم مجھ کو شتاب