حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 554 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 554

روحانی ختنه ائن جلد ۲۲ ۵۵۴ تتمه تباہی اور ہلاکت میرے ہی نصیب ہوگی اور وہ اپنی تمام مرادوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کیا یہ الہام سچا نکلا؟ اور کیا اس مباہلہ کا نتیجہ ان کے حق میں ہوا یا میرے حق میں۔ اور ملاعنہ کا ۱۱۸ بداثر میری طرف رد کیا گیا یا اُن کی طرف۔ برائے خدا ناظرین اس مقام میں کچھ غور کریں تا خدا اُن کو جزائے خیر دے ورنہ خدا تعالیٰ اپنی تائیدات اور اپنے نشانوں کو ابھی ختم نہیں کر چکا۔ اور اُسی کی ذات کی مجھے قسم ہے کہ وہ بس نہیں کرے گا جب تک میری سچائی دنیا پر ظاہر نہ کر دے۔ پس اے تمام لوگو! جو میری آواز سنتے ہو۔ خدا کا خوف کرو اور حد سے مت بڑھو۔ اگر یہ منصو بہ انسان کا ہوتا تو خدا مجھے ہلاک کر دیتا اور اس تمام کاروبار کا نام ونشان نہ رہتا مگر تم نے دیکھا کہ کیسی خدا تعالیٰ کی نصرت میرے شامل حال ہو رہی ہے اور اس قدر نشان نازل ہوئے جو شمار سے خارج ہیں۔ دیکھو کس قدر دشمن ہیں جو میرے ساتھ مباہلہ کر کے ہلاک ہو گئے۔ اے بندگان خدا کچھ تو سوچو کیا خدا تعالیٰ جھوٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے؟ بعض نادان کہتے ہیں کہ آتھم اپنی میعاد میں نہیں مرا لیکن وہ جانتے ہیں کہ مر تو گیا اور میں اب تک زندہ ہوں اور وعید کی پیشگوئیاں جن میں کسی پر عذاب کے نازل ہونے کا وعدہ ہوتا ہے اُن کا میعاد کے اندر پورا ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر شخص مُنذر به تو بہ کرے یار جوع کرے تو اُن کا پورا ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا اور ایسی پیشگوئیاں یعنی عذاب کی پیشگوئیاں تضرع اور تو بہ اور صدقہ اور خیرات سے مل بھی سکتی ہیں اور ملتی رہی ہیں اور اس امر کا گواہ قرآن کریم اور پہلی کتابیں ہیں۔ اور یادر ہے کہ وعید کی پیشگوئی سے مراد عذاب کی پیشگوئی ہے۔ اور جب خدا تعالی کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی کی شامت اعمال سے خدا تعالیٰ اُس پر کوئی بلا نازل کرتا ہے تو عادۃ اللہ اسی طرح پر ہے کہ اس بلا کو تو بہ اور استغفار اور صدقہ خیرات سے اکثر ردکر دیتا ہے اور جب کوئی بلا میں گرفتار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اکثر اس پر رحم کیا جاتا ہے جس طرح کہ یونس نبی کی قوم کی بلا ٹال دی گئی۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ تو بہ اور استغفار اور صدقہ اور خیرات سے بلائل سکتی ہے اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی کی حقیقت بجز اس کے کیا ہے کہ وہ بھی ایک بلا ہوتی ہے کہ کسی مامور من اللہ کے ذریعہ سے اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔