حقیقةُ الوحی — Page 543
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۳ تتمه پس مومن کسی صورت میں طاعون کا مستحق نہیں ہو سکتا بلکہ یہ کافر اور فاسق کے لئے مخصوص ۱۰۷ ہے۔ اسی وجہ سے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا کوئی نبی طاعون سے فوت نہیں ہوا ہاں ایسے مومن جو گناہ سے خالی نہیں ہوتے کبھی وہ بھی اس بیماری میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں اور اُن کی یہ موت اُن کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور اُن کے لئے یہ ایک قسم کی شہادت ہے لیکن کسی نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ موسیٰ ہو کر پھر اُس کو طاعون ہو گئی ہو اور ایسا شخص بڑا خبیث اور پلید اور بدذات ہوگا جس کا یہ اعتقاد ہو کہ کوئی نبی یا خلیفہ اللہ طاعون سے مرا ہے۔ پس اگر یہ ایسی شہادت ہوتی جو قابل تعریف ہے اور جس پر کوئی اعتراض نہیں تو پہلے حق دار اُس کے انبیاء اور رسول ہوتے لیکن جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کبھی کوئی نبی یا رسول اور اول درجہ کا کوئی برگزیدہ جو خدا تعالیٰ سے مکالمہ مخاطبہ کا شرف رکھتا تھا اس خبیث مرض میں مبتلا ہو کر مر گیا ہو۔ بلکہ اول حق دار اس مرض کے ابتدا سے وہی لوگ رہے ہیں جو طرح طرح کے معاصی اور فجور میں مبتلا تھے یا کافر اور بے ایمان تھے اور عقل ہرگز تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ مرض جو قدیم سے خدا نے کفار کے سزا دینے کے لئے تجویز کر رکھی ہے اُس میں خدا کے نبی اور رسول اور ملہم بھی شریک ہو جائیں ۔ توریت اور انجیل اور قرآن متینوں متفق اللسان بیان فرما رہے ہیں کہ ہمیشہ طاعون کفار کو سزا دینے کے لئے نازل ہوتی رہی ہے اور خدا نے قدیم سے لاکھوں کفار اور فاسق اور فاجر اسی طاعون کے ذریعہ نیست و نابود کئے جیسا کہ خدا کی کتابوں اور تاریخ سے ظاہر ہے اور خدا اس سے برتر اور اعلیٰ ہے کہ اپنے مقدس لوگوں کو اس عذاب میں کفار کے ساتھ شریک کرے اور جو بلا کفار کے عذاب کے لئے قدیم سے مقرر ہے اور جس کے ذریعہ سے ہمیشہ نبیوں کے عہد میں ہزاروں فاسق فاجر مرتے رہے ہیں وہی بلا اپنے برگزیدہ نبیوں پر مسلط کر دے۔ پس جس طرح خدا کا وہ عذاب جو قوم لوط پر آیا تھا کسی نبی کی موت اس کے ذریعہ سے ہر گز نہیں ہوئی بلکہ ہر ایک عذاب جو قوموں کی ہلاکت کے لئے وارد ہو چکا ہے کوئی نبی اس عذاب سے نہیں مرا ایسا ہی طاعون جو کفار کے لئے ایک مخصوص عذاب ہے کسی برگزیدہ پر وارد نہیں ہوسکتی۔ اور اگر کوئی اس کے برخلاف دعوی کرے