حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 541 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 541

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۱ تتمه باب اوّل اس بات کے بیان میں کہ الہی بخش کے وہ تمام الہامات جو میرے مقابل پر اس نے شائع کئے تھے (اپنی نسبت یا میری نسبت ) وہ سب کے سب جھوٹے نکلے۔ یہ تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ بابو الہی بخش نے اپنا نام موسیٰ رکھا تھا اور مجھے کو فرعون قرار دیا تھا اور میرے مقابل پر اپنی کتاب کا نام عصائے موسیٰ رکھا تھا گو یا دل میں یہ سوچا تھا کہ اس عصا کے ساتھ اس فرعون کو میں ہلاک کروں گا اور ایک خط بھی میرے نام ارسال کیا تھا جس میں دھمکی دی گئی تھی اور بیان کیا گیا تھا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ یہ شخص کا ذب ہے اور اس موسیٰ کے ہاتھ سے اس کا استیصال ہوگا ۔ ایسی بہت سی زبانی پیشگوئیاں ان کی ہیں جو صرف اپنے دوستوں یا ملاقاتیوں پر اُس نے ظاہر کی تھیں اور سب کا خلاصہ یہی ہے کہ گویا میں اُس کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا اور وہ مجھ پر غالب آجائے گا اور میں اُس کے سامنے ذلیل ہوں گا اور وہ دنیا میں بڑا عروج پائے گا جو اور موسیٰ نبی کی طرح لاکھوں انسانوں کا سردار بن جائے گا اور افسوس کہ میں نے بہت سی کوشش کی کہ تا اُس کے پوشیدہ الہاموں کا مجھے پتہ لگ جاوے مگر وہ صرف اُس کے دوستوں کے حلقہ تک ہی محدود رہے اور کوئی تحریر جو بطور دستاویز ہو مجھ کو نہ ملی مگر جس قدر کتاب میں اُس نے مجھے اپنے دوست فاضل مکرم مولوی نورالدین صاحب کی تحریر سے جماعت غزنوی ثم امرتسری کے ایک بزرگ مولوی عبد الواحد کی ایک خواب با بو الہی بخش کی نسبت معلوم ہوئی ہے جس کو میں اپنے الفاظ میں نہیں لکھتا بلکہ مولوی صاحب موصوف کا اصل رقعہ ذیل میں لکھ دیتا ہوں اور وہ یہ ہے۔ حضرت مولانا الامام علیک الصلوۃ والبركات والسلام ۔ مجھے عزیز عبد الواحد الغزنوی نے خط لکھا تھا۔ ہماری جماعت کے لوگوں نے دیکھا ہے الہی بخش ایک بلند مینار پر کھڑا ہے اور لوگ اُس کے نیچے ہیں اس لئے اب اس کی ترقی ہوگی اور بہت الفاظ تھے جو مجھے یاد نہیں رہے کیونکہ میں خطوط کو معمولی طور پر پڑھتا ہوں اور پھر محفوظ نہیں رکھتا۔ میں نے الہی بخش کے مرنے پر عبدالواحد کو اس مضمون کا خط لکھ دیا ہے تو جواب اب تک نہیں آیا جس قدر مضمون یقینی طور پر یاد ہے یہ ہے شہادة باللہ العظیم ۔ عرض خدمت ہے۔ نور الدین۔