حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 540 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 540

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۰ تتمه ۔ (۱۰۴) اس کو یقین دلایا ہو گا کہ اُس کے تمام الہامات شیطانی تھے اس صورت میں لاعلاج حسرت کے ساتھ اُس نے سمجھ لیا ہوگا کہ میں غلطی پر تھا اور جو کچھ میں نے سمجھا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا اور آگے چل کر ہم بیان کریں گے کہ ایسا سمجھنا اُس کے لئے ضروری تھا کیونکہ اس نظارہ موت سے اُس کے الہامی اقوال یک دفعہ ایسے باطل ثابت ہوئے جیسے نا گہانی طور پر ایک دیوار گرتی ہے۔ یہ اُس کے لئے بعید از قیاس تھا کہ میں اس طاعون سے بچ جاؤں گا کیونکہ سے ا پریل ۱۹۰۷ء کو جس تاریخ وہ مرا اور اس سے پہلے ایسی تیز اور مہلک طاعون لا ہور میں تھی کہ بعض دنوں دو دوسو سے زیادہ لوگ مرتے تھے اور اُس کا ایک عزیز اُس سے ایک دن پہلے طاعون سے مر گیا تھا جس کے جنازہ پر جا کر وہ طاعون خرید لایا۔ پس اس مہلک بیماری میں کون کہہ سکتا ہے کہ میں بچ جاؤں گا بلکہ ہزار ہا لوگ طاعون میں مبتلا ہوتے ہی پس ماندوں کے لئے وصیت لکھا دیتے ہیں۔ غرض طاعون میں مبتلا ہونے کے ساتھ ہی اُس کی تمام موسویت دریا بُرد ہو گئی ۔ اور اُس نے ہزاروں مرتے ہوئے انسانوں کو یاد کر کے اور خصوصاً یعقوب کی موت کو تصور میں لا کر سمجھ لیا کہ میں ضرور مروں گا ایسی حالت میں کیوں کر وہ اس بات پر قائم رہ سکتا تھا۔ کہ میں موسیٰ ہوں ۔ پس یہ خدا کا رحم ہے کہ وہ اپنے عقائد فاسدہ کو ساتھ نہیں لے گیا اور خدا نے اُس کا گلا پکڑ کر اُس سے رجوع کرایا اور اُن لوگوں میں داخل ہو گیا جن کی نسبت خدا تعالی فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِها اب اول میں دیکھوں گا کہ جن الہامات کو اُس نے اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں لکھا ہے وہ سب کے سب جھوٹے ثابت ہوئے اور بعد میں اس بات کا ثبوت دیا جائے گا کہ وہ میری پیشگوئی کے مطابق مرا ہے اور اُس کی موت میری سچائی پر ایک نشان ہے بلکہ اُس کی موت نے میری سچائی پر مہر کر دی ہے۔ اور میں اس بیان کو دوباب پر تقسیم کرتا ہوں۔ ل النساء : ١٢٠